الیکشن کمیشن میں ذاتی حیثیت سے طلبی پر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہونا
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن کی جانب سے ذاتی حیثیت میں طلب کیے جانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کو کوڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے اور فیملی کی ملاقات بھی نہیں کرائی جارہی، اہلیہ مشعال ملک
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو دھمکیوں کے معاملے پر وکیل علی بخاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے بھی پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کے شراب خانوں میں 50 سال پہلے ہونے والے دھماکوں کا حل نہ ہونے والا معمہ
نوٹسز کی صورتحال
وکیل علی بخاری نے بینچ کو آگاہ کیا کہ ایک ہی وقت میں ڈی آر او نے نوٹس کر رکھا ہے۔ ایک ہی وقت میں 2 جگہ سے نوٹسز ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن بینچ کے ممبر کے پی کے نے ریمارکس دیے کہ جو یہاں پیش نہیں ہوئے وہ وہاں کون سا پیش ہوئے ہوں گے؟
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں مرحوم ملازمین کی اولاد کے لیے ملازمت کا کوٹہ ختم کردیا گیا
وکیل کا مؤقف
علی بخاری نے کہا کہ یہ بات کرنا زیادتی ہے۔ قانون کے مطابق میں وزیر اعلیٰ کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ چیف صاحب اپنے ممبر کو بتائیں کہ کیسے ریمارکس دینے ہیں۔ اس موقع پر علی بخاری نے ممبر کمیشن کے پی کے کے ریمارکس پر اعتراضات اٹھا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب آپ نے یہ کہہ دیا ہے تو کیا مجھے انصاف ملے گا؟
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم میں ایسی کوئی بات شامل نہیں جس سے انصاف کا معیار اچھا ہو، مفتاح اسماعیل
وزیراعلیٰ کی مصروفیت
وکیل نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ایک اجلاس کی وجہ سے مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ بڑے سلجھے ہوئے، سادہ اور جہاں دیدہ انسان تھے، سفید کرتا لاچہ پہنتے، معمولی تعلیم کے باوجود سیانی گفتگو کرتے، ان کی محفل میں سیکھنے کو بہت کچھ ہوتا
ذاتی حیثیت میں طلبی
چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی حاضری سے استثنا کی درخواست دی ہے، وہ ایک اجلاس میں ہیں۔ میری ابھی تک ان سے ملاقات نہیں ہوئی، ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیف علی خان اور کرینہ کپور کی شادی اختتام کے قریب، معروف صحافی مبشر لقمان کا دعویٰ
اجلاس کی تفصیلات
چیف الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا وہ کے پی کے میں ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ایک میٹنگ تھی وہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی چاول کی قیمتوں میں کمی سے یورپین یونین میں پاکستانی چاول کی فروخت میں کمی کا خطرہ
آفریدی کے خلاف کارروائی
اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی کی تفصیل بتائی کہ این اے 18 ہری پور سے عمر ایوب کی اہلیہ امیدوار ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابی مہم میں کوئی پبلک آفس ہولڈر شرکت نہیں کر سکتا۔ تشدد پر اکسانے یا دھمکانے کی بھی ممانعت ہے۔ وزیراعلیٰ نے چمبہ، حویلیاں میں جلسے سے خطاب کیا جو انتخابی حلقہ کی سرحد پر ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے انتخابی عملے کو دھمکایا۔ حلقے سے امیدوار شہرناز عمر ایوب بھی برابر قصور وار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میرے شوہر اور فیملی نہیں چاہتی میں اداکاری کروں: غنیٰ علی
وکیل کا سوال
وکیل علی بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ کیا سہیل آفریدی کے خلاف یہ نوٹس بنتا ہے؟ کیا ان کو یہ نہیں پتا کہ وزیراعلیٰ نے خطاب ہری پور نہیں ایبٹ آباد میں کیا ہے۔ ہری پور کے ساتھ والے خسرے میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے 3 ارب کا اسپتال دیا ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں ہے؟
یہ بھی پڑھیں: انڈین خاندان کا امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر آخری سفر: “یہاں سب کی آنکھوں میں باہر جانے کے خواب ہیں”
چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ حقیقت ہے وزیر اعلیٰ نے حویلیاں میں خطاب کیا۔ آج کی سماعت کا حکمنامہ جاری کریں گے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو آج کی عدم حاضری پر استثنا دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کب ہوں گے؟ عبوری حکومت کے سربراہ نے “صاف جواب” دیا
نوٹس کا اجراء
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے آج ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وفاقی وزیر کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ وفاقی وزیر کو آپ سے زیادہ سخت زبان میں نوٹس جاری کیا ہے۔
سماعت کا اختتام
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔








