الیکشن کمیشن میں ذاتی حیثیت سے طلبی پر وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا الیکشن کمیشن میں پیش نہ ہونا
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) الیکشن کمیشن کی جانب سے ذاتی حیثیت میں طلب کیے جانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وکیل کو بھیج دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ نے 9 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں 2 مرتبہ بری ہونے والے مجرم کو عمر قید سنا دی
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری ملازمین کو دھمکیوں کے معاملے پر وکیل علی بخاری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ کے روبرو ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے بھی پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کو 15 کروڑ پنشن کی مد میں مل گئے۔
نوٹسز کی صورتحال
وکیل علی بخاری نے بینچ کو آگاہ کیا کہ ایک ہی وقت میں ڈی آر او نے نوٹس کر رکھا ہے۔ ایک ہی وقت میں 2 جگہ سے نوٹسز ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن بینچ کے ممبر کے پی کے نے ریمارکس دیے کہ جو یہاں پیش نہیں ہوئے وہ وہاں کون سا پیش ہوئے ہوں گے؟
یہ بھی پڑھیں: اغوا برائے تاوان کیس،7 پولیس اہلکاروں کی تنخواہ بند، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
وکیل کا مؤقف
علی بخاری نے کہا کہ یہ بات کرنا زیادتی ہے۔ قانون کے مطابق میں وزیر اعلیٰ کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ چیف صاحب اپنے ممبر کو بتائیں کہ کیسے ریمارکس دینے ہیں۔ اس موقع پر علی بخاری نے ممبر کمیشن کے پی کے کے ریمارکس پر اعتراضات اٹھا دیے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب آپ نے یہ کہہ دیا ہے تو کیا مجھے انصاف ملے گا؟
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ، جسٹس آغا فیصل کو جوڈیشل انکوائری سے متعلق جوڈیشل کمیشن کا جج نامزد کردیا گیا
وزیراعلیٰ کی مصروفیت
وکیل نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی ایک اجلاس کی وجہ سے مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اذان کی تکمیل کیلئے 22 شہادتیں: دنیا بھر میں آج یوم شہدائے کشمیر منایا جارہا ہے۔
ذاتی حیثیت میں طلبی
چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کی حاضری سے استثنا کی درخواست دی ہے، وہ ایک اجلاس میں ہیں۔ میری ابھی تک ان سے ملاقات نہیں ہوئی، ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سست ترین نصف سنچری کرنے کا محمد رضوان کا ریکارڈ برابر ہو گیا
اجلاس کی تفصیلات
چیف الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ کیا وہ کے پی کے میں ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ایک میٹنگ تھی وہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کبھی بھی پاکستان سے امن معاہدہ سائن نہیں کریں گے، فیاض الحسن چوہان
آفریدی کے خلاف کارروائی
اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کے خلاف کارروائی کی تفصیل بتائی کہ این اے 18 ہری پور سے عمر ایوب کی اہلیہ امیدوار ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے تحت انتخابی مہم میں کوئی پبلک آفس ہولڈر شرکت نہیں کر سکتا۔ تشدد پر اکسانے یا دھمکانے کی بھی ممانعت ہے۔ وزیراعلیٰ نے چمبہ، حویلیاں میں جلسے سے خطاب کیا جو انتخابی حلقہ کی سرحد پر ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے انتخابی عملے کو دھمکایا۔ حلقے سے امیدوار شہرناز عمر ایوب بھی برابر قصور وار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور مسلح افواج کا میجر محمد اکرم شہید، (نشان حیدر) کی 53ویں برسی پر خراج عقیدت
وکیل کا سوال
وکیل علی بخاری نے مؤقف اختیار کیا کہ کیا سہیل آفریدی کے خلاف یہ نوٹس بنتا ہے؟ کیا ان کو یہ نہیں پتا کہ وزیراعلیٰ نے خطاب ہری پور نہیں ایبٹ آباد میں کیا ہے۔ ہری پور کے ساتھ والے خسرے میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے 3 ارب کا اسپتال دیا ہے۔ کیا یہ تضاد نہیں ہے؟
یہ بھی پڑھیں: فرنٹیئر کانسٹیبلری کو صدارتی آرڈیننس جاری کرکے وفاقی فورس کا درجہ دے دیا گیا
چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ حقیقت ہے وزیر اعلیٰ نے حویلیاں میں خطاب کیا۔ آج کی سماعت کا حکمنامہ جاری کریں گے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو آج کی عدم حاضری پر استثنا دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں، نہ سیاسی بات کرسکتے ہیں اور نہ ہی شہباز شریف اس پوزیشن میں ہیں، جنید اکبر
نوٹس کا اجراء
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے آج ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر وفاقی وزیر کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔ وفاقی وزیر کو آپ سے زیادہ سخت زبان میں نوٹس جاری کیا ہے۔
سماعت کا اختتام
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔








