نومبر میں کچھ، دسمبر میں بہت کچھ ہونے والا ہے، سہیل آفریدی
سہیل آفریدی کی گفتگو
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے اور وفاق کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کے باوجود وہ جمہوری رویوں کے حامی ہیں اور احتجاج کی طرف نہیں جانا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت ڈرون جنگ کا آغاز ہوچکا، بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کس کے ڈرون نظام کو بہتر قرار دیا؟
آنے والے مہینوں کے حوالے سے اشارے
انہوں نے واضح کیا کہ نومبر میں ’’کچھ‘‘ اور دسمبر میں ’’بہت کچھ‘‘ ہونے جا رہا ہے، تاہم تفصیلات سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میر خلیل الرحمان کا انتقال ہوا تو ایک رپورٹر وفاداری ثابت کرنے کیلئے قبر میں لیٹ گیا تھا: وسعت اللہ خان
خطوط کی اہمیت
اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے خیبر پختونخوا ہاؤس میں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تمام آئینی راستے استعمال کیے ہیں، یہاں تک کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خط بھی لکھا جس کا مقصد معاملہ ریکارڈ پر لانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ “مریم نواز کی ذمہ داری ہے کہ وہ میرے خط کا جواب دیں، یہ ایک روایت ہے۔ میں جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔ میڈیا بتائے اب میں بانی سے ملاقات کیلئے کیا کروں؟”
یہ بھی پڑھیں: مجھے بھی یہ والا پرفیوم چاہیے: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر اپنی تصویر والا پرفیوم دیکھ کر مطالبہ کر دیا
وزیراعظم کے ساتھ تعلقات
انہوں نے کہا کہ ان کا کسی بانی رہنما سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے انہیں مبارکباد ضرور دی، مگر ان کے مطابق سوشل میڈیا پر وزیراعظم سمیت سب کی ٹرولنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو لکھے اپنے خط کو ’’معذرت نامہ سمجھ لینے‘‘ کا مشورہ بھی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں یکم جنوری تک توسیع
صوبے کے مسائل
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کو اس وقت سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ “دہشتگردوں کے لیے ہمارے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ ہماری جماعت نے دہشتگردوں کو کے پی میں بسایا۔ ٹی ٹی پی کو تو پی ڈی ایم دور میں واپس لا کر بسایا گیا۔”
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں جب دہشتگرد مارے جاتے ہیں تو کوئی احتجاج نہیں کرتا، البتہ بے گناہوں کی ہلاکت پر آواز اٹھائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم تاریخ سے ایک بات ہی سیکھتے ہیں کہ ہم کچھ نہیں سیکھتے، دھبوں میں اضافہ کرتے ہیں مٹاتے نہیں ایک عدالت روز محشر بھی لگنی ہے جہاں کڑا انصاف ہو گا
کرپشن کے حوالے سے اعلان
کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی اطلاع ہو تو سامنے لائی جائے، نیب کارروائی کرے۔
مزاحیہ مگر دوٹوک انداز میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ “میں تو سات مرلے کا گھر بھی نہیں بنا سکتا، جس دن بنا لوں، مجھے پکڑ لینا۔”
یہ بھی پڑھیں: کپڑے وقت پر نہ دینے پر شہری دکاندار کے خلاف عدالت پہنچ گیا، نوٹس جاری
منشیات کے نیٹ ورک کی بات چیت
منشیات کے نیٹ ورک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کے پی میں اس کام میں کوئی سیاسی عناصر ملوث ہیں تو حکومت کو بتایا جائے، وہ فوری ایکشن لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 5 افراد کی 2 سگی بہنوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی، مقدمے کی تفتیش سی سی ڈی چوہنگ کے سپرد
پیغام اور قربانیاں
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے لوگ انہیں پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ احتجاج کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ “کے پی کا ہر شہید مجھے تکلیف دیتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دیں، اگر ہمیں اعتماد میں لیا جائے تو دوبارہ قربانیوں کیلئے تیار ہیں۔”
ملاقاتیں اور مطالبات
انہوں نے بتایا کہ کورکمانڈر پشاور سے ملاقات میں بھی اہم بات چیت ہوئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں شرکت کریں گے اور مطالبہ کیا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے واجب الادا فنڈز جاری کرے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے وہ ہمیشہ حامی رہے ہیں، مگر “موجودہ حکومت سے بات کا کوئی فائدہ نہیں۔”








