نومبر میں کچھ، دسمبر میں بہت کچھ ہونے والا ہے، سہیل آفریدی
سہیل آفریدی کی گفتگو
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے اور وفاق کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کے باوجود وہ جمہوری رویوں کے حامی ہیں اور احتجاج کی طرف نہیں جانا چاہتے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ بورڈ کی تشکیل پر اسرائیل کا مؤقف آ گیا
آنے والے مہینوں کے حوالے سے اشارے
انہوں نے واضح کیا کہ نومبر میں ’’کچھ‘‘ اور دسمبر میں ’’بہت کچھ‘‘ ہونے جا رہا ہے، تاہم تفصیلات سے گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی انتخابات میں کامیابی کے لیے پرعزم پاکستانی نژاد امیدوار: ‘گیس سٹیشن سے امریکی ریاست تک کا سفر’
خطوط کی اہمیت
اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے خیبر پختونخوا ہاؤس میں ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تمام آئینی راستے استعمال کیے ہیں، یہاں تک کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو خط بھی لکھا جس کا مقصد معاملہ ریکارڈ پر لانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ “مریم نواز کی ذمہ داری ہے کہ وہ میرے خط کا جواب دیں، یہ ایک روایت ہے۔ میں جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔ میڈیا بتائے اب میں بانی سے ملاقات کیلئے کیا کروں؟”
یہ بھی پڑھیں: طاقت کے بل بوتے پر نظام زیادہ دیر نہیں چل سکتا، بحرانوں کا حل سیاسی بات چیت سےممکن ہے: لیاقت بلوچ
وزیراعظم کے ساتھ تعلقات
انہوں نے کہا کہ ان کا کسی بانی رہنما سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نے انہیں مبارکباد ضرور دی، مگر ان کے مطابق سوشل میڈیا پر وزیراعظم سمیت سب کی ٹرولنگ ہوتی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو لکھے اپنے خط کو ’’معذرت نامہ سمجھ لینے‘‘ کا مشورہ بھی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اور بھارتی کرکٹر نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا
صوبے کے مسائل
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کو اس وقت سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ “دہشتگردوں کے لیے ہمارے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیں۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ ہماری جماعت نے دہشتگردوں کو کے پی میں بسایا۔ ٹی ٹی پی کو تو پی ڈی ایم دور میں واپس لا کر بسایا گیا۔”
انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں جب دہشتگرد مارے جاتے ہیں تو کوئی احتجاج نہیں کرتا، البتہ بے گناہوں کی ہلاکت پر آواز اٹھائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا، حالیہ سیلاب میں جاں بحق 411 میں سے 352 افراد کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی مکمل
کرپشن کے حوالے سے اعلان
کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو کوئی اطلاع ہو تو سامنے لائی جائے، نیب کارروائی کرے۔
مزاحیہ مگر دوٹوک انداز میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ “میں تو سات مرلے کا گھر بھی نہیں بنا سکتا، جس دن بنا لوں، مجھے پکڑ لینا۔”
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن لندن کے زیر اہتمام یومِ تکبیر کا جشن ، نواز شریف کے فیصلے کو “دُلیرانہ فیصلہ” قرار دیا گیا
منشیات کے نیٹ ورک کی بات چیت
منشیات کے نیٹ ورک پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کے پی میں اس کام میں کوئی سیاسی عناصر ملوث ہیں تو حکومت کو بتایا جائے، وہ فوری ایکشن لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گولڑہ اسٹیشن کے سامنے کھڑے کچھ ڈبے بہت تاریخی نوعیت کے ہیں جن میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن اورقائداعظم کے زیر استعمال رہنے والے سیلون بھی ہیں
پیغام اور قربانیاں
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کے لوگ انہیں پیغام بھیج رہے ہیں کہ وہ احتجاج کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ “کے پی کا ہر شہید مجھے تکلیف دیتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دیں، اگر ہمیں اعتماد میں لیا جائے تو دوبارہ قربانیوں کیلئے تیار ہیں۔”
ملاقاتیں اور مطالبات
انہوں نے بتایا کہ کورکمانڈر پشاور سے ملاقات میں بھی اہم بات چیت ہوئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ اجلاس میں شرکت کریں گے اور مطالبہ کیا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے واجب الادا فنڈز جاری کرے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے وہ ہمیشہ حامی رہے ہیں، مگر “موجودہ حکومت سے بات کا کوئی فائدہ نہیں۔”








