بوریوں کے حساب سے پیسا بنایا
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 356
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ سمندری سرحدوں کے ہر انچ کے دفاع کیلیے پوری طرح تیار ہے: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف
بھائی جان خالد فاروق کا کردار
بھائی جان خالد فاروق ان دنوں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ تھے۔ انہی کے تحت ان افسروں کی بھرتی ہونی تھی۔ اس کام کے لئے "جہار رضوی" کو سپیشل سیکرٹری بلدیات تعینات کیا گیا، اور بعد میں یہ سی ایم سیکرٹریٹ پوسٹ کئے گئے تھے۔ جہار رضوی نے اپنے بیٹے سمیت سبھی سفارشی بھرتی کئے تھے۔ میرٹ کا مطلب تھا ہی بھٹی کا قرب۔ ایک اسامی بھائی جان خالد فاروق کی سفارش پر بذریعہ نجیب اللہ ملک سیکرٹری بلدیات صاحب کے ڈرائیور اورنگ زیب کے بیٹے کامران کے حصے آئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: اب برتھ اور ڈیتھ سرٹیفیکیٹ بالکل مفت بنوائیں، پنجاب حکومت نے بڑا قدم اٹھا لیا
امتحان کی حقیقت
امیدواروں کا تحریری ٹیسٹ ہوا۔ بہت سے فیل ہو گئے اور ایک امیدوار جو جنرل پرویز مشرف کے دست راست، دوست اور پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز کا عزیز تھا، ٹیسٹ والے دن پہنچا ہی نہیں۔ لہٰذا دوبارہ امتحان کے لئے سبھی امیدواراں کو ایک مخصوص کمرے میں بٹھا کر جہار رضوی کی نگرانی میں لیا گیا۔ سبھی کو اول درجے میں پاس کیا گیا۔ ان میں بہت سوں کے پرچے عرصہ تک میرے پاس محفوظ رہے تھے۔ چور راستے سے آئے اُن میں سے بہت سے افسر آج ماشاء اللہ انیسویں (19) گریڈ میں ترقی پا چکے ہیں۔ ان کی اصل قابلیت پرویز الٰہی سے قربت یا محمد خاں بھٹی سے نیابت تھی۔ آج سبھی صاحب دولت و افتخار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آج کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی، اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے، بیرسٹر گوہر
نئے بھرتی شدہ افسران اور ان کی کہانیاں
نئے بھرتی شدہ افسران میں ایک کے چچا زبیر نت (ان کا داماد محسن میرے بیٹے احمد کا بڑا اچھا دوست تھا) میرے اچھے جاننے والے تھے۔ اپنے بھتیجے کی پوسٹنگ کے لئے میرے پاس آئے اور بولے؛ "بھائی جان! برخوردار کی کہاں پوسٹنگ کراؤں۔" میرے منہ سے بے اختیار نکلا؛ "یار! اگر تو برخوردار کا گزارا سوزو کی کار پر ہو سکتا ہے تو کوئی چھوٹی ٹی ایم اے میں پوسٹنگ لے لو، کام وام بھی سیکھ لے گا اور اگر کرولا وغیرہ کا ارادہ ہے تو کسی بڑے شہر میں پوسٹنگ کرا لو۔" کہنے لگے؛ "کام شم تے سکھ ای لوے گا۔" وہ چاچا بھتیجا کرولا پر نظر لگائے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اعصام، اشنا اور مزمل کی شاندار کامیابیاں: خواجہ افتخار میموریل ٹینس چیمپئن شپ 2024 اختتام پذیر
کرپشن کے واقعات
موصوف خود بھی اس دور میں بھرتی ہوئے تھے جب چودھری صاحب وزیر بلدیات تھے۔ ایک بار کرپشن کیس میں پکڑے گئے اور بات غالباً نوکری سے برخاستی تک جا پہنچی۔ وزیر بلدیات نے اُسے ساتھ لیا اور وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں مرحوم کے پاس چلے آئے اور سفارش کرتے بولے؛ "وائیں صاحب! منڈے توں غلطی ہو گئی۔ سمجھا دیتا اے اگے توں محتاط روے گا۔" وہ محتاط رہا یا نہ رہا البتہ نوکری پر بحال ہو گیا اور بوریوں کے حساب سے پیسہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: لوگوں کی بدترین تنقید سے تنگ آ کر ڈاکٹر نبہیہ نے شادی کے کچھ روز بعد ہی حارث کھوکھر سے طلاق لینے پر غور شروع کردیا
بھرتی سیکرٹری یونین کونسل کی اطلاعات
2007ء میں سیکرٹری یونین کونسلز اور مختلف محکموں میں نائب قاصد اور جونئیر کلرک کی بھرتی کا کام شروع ہوا۔ ٹی ایم او کی بھرتیوں کے برعکس سیکرٹریوں کی خالی اسامیوں کی تعداد میں بہت تھیں۔ ان بھرتیوں کے لئے باقاعدہ اخبار میں اشتہار دیا گیا تھا۔ ان بھرتیوں کے انچارج بھی صاحب ہی تھے۔ ایم پی ایز کو راضی رکھنے کے لئے ہر ضلع کی کل اسامیوں کا 60 فیصد متعلقہ اضلاع کے ایم پی ایز کو بطور کوٹہ دیا گیا اور باقی 40 فیصد اوپن میرٹ کے لئے چھوڑ دیا گیا۔
نتیجہ
آج بھی یونین کونسلوں میں بہت سے اعمال ایسے ہیں جن کی بھرتی پر سوالیہ نشان ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








