قیدی ملنا نہیں چاہتا تو جیل حکام زبردستی نہیں ملوا سکتے، سہیل آفریدی کے خط پر عظمیٰ بخاری کا جواب
لاہور میں وزیراطلاعات پنجاب کا بیان
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اگر کوئی قیدی ملنا نہیں چاہتا تو جیل حکام زبردستی ملاقات نہیں کروا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بچوں کی پاکستان آمد کے اعلان سے مومینٹم بن رہا تھا لیکن بار بار علی امین گنڈاپور کے اعلانات سے مومینٹم ٹوٹ جاتا ہے، بیرسٹر سعد رسول
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا خط اور جواب
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خط پر جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں کروانے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کوئی لینا دینا نہیں۔ مریم نواز کبھی بھی کسی سرکاری افسر کے کام میں مداخلت نہیں کرتیں۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑی اب چپ چاپ گزر جاتی تھی، سیٹی بھی بجاتی ہو گی لیکن گاؤں کی حد تک سنائی نہیں دیتی، چند مسافروں کا کچھ لین دین ہوتا پھر وہی کھیل شروع ہو جاتا
جیل میں ملاقاتوں کے بارے میں قواعد
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جیل رولز کے مطابق سیاسی میٹنگز کی اجازت نہیں ہوتی اور جیل سپرنٹنڈنٹ اس حوالے سے فائنل اتھارٹی ہے۔ جیل حکام قیدی کے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کرواتے ہیں جب کہ ملاقاتیوں کے نام قیدی کی طرف سے دیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرائض میں غفلت برتنے پر کوٹ مومن تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے قائمقام ایم ایس اور سرگودھا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا
قیدی کی مرضی کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قیدی کسی سے نہیں ملنا چاہتا تو جیل حکام زبردستی اس کی ملاقات نہیں کرواسکتے۔ بانی پی ٹی آئی سے ہفتے میں 2 دن ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اب تک بانی پی ٹی آئی سے ان کے وکلا کی 420 اور فیملی کے لوگوں کی 189 ملاقاتیں ہوچکی ہیں جب کہ بشریٰ بی بی کے اہل خانہ کی ملاقاتیں اس سے الگ ہیں۔
سہیل آفریدی پر تنقید
صوبائی وزیر نے کہا کہ پھر بھی ہر ہفتے جیل کے باہر جلسہ کیا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی ہمیں قانون پڑھانے سے پہلے خود قانون پڑھیں۔ سہیل آفریدی 9مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ کھڑے ہوکر جلسے کرتے ہیں اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دیتے ہیں۔








