خاتون کی بریت کے بعد پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سے ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور (ویب ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ نے خاتون کی بریت کے بعد پولیس ریکارڈ مینجمنٹ سے ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ تاہم، عدالت نے پولیس کو 10 روز میں درخواست گزار خاتون کو نیا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی ہدایت دی، جس میں بریت یا ڈسچارج مقدمات کو ظاہر کرنے سے روکا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کے لیے پاکستانی قونصلہ جنرل کا دبئی میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے کا دورہ، تاثرات درج کیے۔
عدالتی تفصیلات
تفصیل کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم نے شہری ڈاکٹر عظمیٰ حمید کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے بتایا کہ بریت، ڈسچارج یا منسوخ مقدمات کا ذکر پولیس سرٹیفکیٹ میں نہیں کر سکتے، حالانکہ پولیس بری مقدمات کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے مگر سرٹیفیکیٹ میں ان کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ کے ٹیسٹ میں کراچی کے بچے بازی لے گئے
قانونی اصول
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رولز کے مطابق پولیس 60 سال تک مقدمات کا ریکارڈ رکھ سکتی ہے، اور عدالت پولیس کو ریکارڈ رکھنے سے روکنے کا حکم نہیں دے سکتی۔ بری شخص وہی حیثیت رکھتا ہے جیسے کبھی مقدمہ قائم ہی نہ ہوا ہو۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 14 شہری کی عزت و وقار کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو اپنی عالمی حیثیت کی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ٹرمپ اور مودی کے تعلقات کیسے بگڑے ۔۔۔؟ نیو یارک ٹائمز نے وجوہات بتا دیں
مقدمے کی تفصیلات
درخواست گزار خاتون پر 2016ء میں فراڈ کا مقدمہ درج ہوا، جس کے بعد 2017ء میں جوڈیشل مجسٹریٹ نے خاتون کی بریت کی درخواست منظور کر لی۔ درخواست گزار خاتون نے اسٹڈی ویزے پر بیرون ملک جانے کے لیے پولیس ریکارڈ سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی تھی۔
سرٹیفکیٹ کا معاملہ
پولیس نے خاتون کو سرٹیفکیٹ جاری کیا جس میں بری ہونے والے مقدمے کا بھی ذکر شامل تھا۔ درخواست گزار نے مقدمے کا ذکر کیے بغیر سرٹیفکیٹ جاری کرنے اور ریکارڈ ڈیلیٹ کرنے کی استدعا کی تھی۔








