وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان ترجمان پنجاب حکومت کوثر کاظمی کے چیلنج سے بھاگ گئے۔
وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا کا چیلنج
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان پر تشدد کی ویڈیوز ہونے کا دعویٰ کر کے وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع اللہ جان، ترجمان پنجاب حکومت کوثر کاظمی کے چیلنج سے بھاگ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: Peshawar High Court Halts Anti-Corruption Action Against Mahmood Khan
مریم نواز کا سرکاری افسران کے بارے میں موقف
پروگرام میں کوثر کاظمی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کسی سرکاری افسر کے کام میں مداخلت نہیں کرتی بلکہ وہ کھل کر اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ اگر کوئی بھی سرکاری افسر سے سفارش کرتا ہے تو اس پر ریڈ فلیگ لگتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی چیئرمین پی سی بی تقرری کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
عمران خان کی جیل میں ملاقاتیں
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک جرم کی پاداش میں جیل میں قید ہیں، ان سے ملاقاتوں کا جو طریقہ کار ہے، جیل انتظامیہ اس پر کار بند ہیں۔ اب تک عمران خان سے ان کی فیملی کی 150 ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی فورسز نے پرنس سلطان ائیر بیس پر ڈرون حملہ ناکام بنا دیا
علیمہ خان کا جیل میں جانا
علیمہ خان جب بھی جیل جاتیں ہیں تو وہاں پھر ڈرامہ ہوتا ہے اور بہتان لگائے جاتے ہیں۔ یہ کہنا کہ علیمہ خان کو بالوں سے گھسیٹا گیا تو اس کے ثبوت یا فوٹیج کہاں ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا پہلا اجلاس، وزیر اعلیٰ کا میرٹ یقینی بنانے کا حکم
شفیع اللہ جان کا دعویٰ
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع اللہ جان نے کہا کہ بالکل ثبوت ہیں، سب سے پہلے تو نورین خان خود کہتی ہیں کہ انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا، ہمارے پاس ویڈیوز بھی پڑی ہوئی ہیں۔
ویڈیوز کا وعدہ
اس پر اینکر پرسن نے کہا کہ پھر آپ پنجاب حکومت کو ویڈیوز دیں۔ شفیع اللہ جان نے کہا کہ میں ویڈیوز اسی پروگرام میں دے دوں گا۔ اس پر ترجمان پنجاب حکومت کوثر کاظمی نے کہا کہ اگر شفیع اللہ جان اس پروگرام میں ویڈیو دے دیں تو میں ابھی مرغا بننے کے لیے تیار ہوں۔ جواب میں شفیع اللہ جان کہتے رہے کہ میں ویڈیوز دوں گا لیکن انہوں نے کوئی ویڈیو نہیں دی۔








