پاک افغان سرحدی بندش سے افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ
افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور پاکستان کی سرحدی بندش
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان کو شدید معاشی نقصان کے باوجود افغان طالبان کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک میڈیا فورم کا اہم سالانہ اجلاس اور تنظیمِ نو کا اعلان
پاکستان اور افغانستان کی سرحدی بندش کے اثرات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش سے افغان معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں جس پر افغان عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان دو سال کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا رکن منتخب
مہنگائی کا بڑھتا ہوا عفریت
افغان نشریاتی ادارہ آمو ٹی وی کے مطابق پاکستان سے سرحدی بندش کے نتیجے میں افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا سینئر صحافی مظہر اقبال کے انتقال پر اظہار افسوس
عوام کی آراء اور تنقید
افغان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغان عوام کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے، بنیادی غذائی اشیاء اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، غریب کیسے گزارا کرے؟
یہ بھی پڑھیں: رانا تنویر حسین کی قرطبہ سپین میں ہونے والے انٹرنیشنل اولیو کونسل کے رکن ممالک کی 122ویں نشست میں پاکستان کی نمائندگی
مالی نقصانات کا تخمینہ
افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق ہر ماہ سرحد کی بندش سے تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، پاکستان پر تجارتی انحصار کی بدولت سرحدی بندش سے افغانستان کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں OLX کے ذریعے مبینہ اغوا اور ڈکیتی کی انوکھی واردات سامنے آگئی
مستقبل کی مشکلات
ماہرین کے مطابق خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں سردیوں کے دوران افغان عوام کی زندگی مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ اگر پاک افغان سرحد جلد نہیں کھلی تو انسانی اور اقتصادی نقصان میں اضافہ ہوگا۔
افغان طالبان کا اقتصادی بحران
قابض افغان طالبان کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو شدید اقتصادی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔








