پاک افغان سرحدی بندش سے افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ
افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور پاکستان کی سرحدی بندش
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان کو شدید معاشی نقصان کے باوجود افغان طالبان کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو دفاعی میدان میں ایک اور بڑا دھچکا، برازیل نے آکاش میزائل سسٹم کی خریداری روک دی
پاکستان اور افغانستان کی سرحدی بندش کے اثرات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش سے افغان معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں جس پر افغان عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے ثالثی کی پیشکش کر دی
مہنگائی کا بڑھتا ہوا عفریت
افغان نشریاتی ادارہ آمو ٹی وی کے مطابق پاکستان سے سرحدی بندش کے نتیجے میں افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور مریم نواز دبئی روانہ ہوگئے
عوام کی آراء اور تنقید
افغان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغان عوام کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے، بنیادی غذائی اشیاء اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، غریب کیسے گزارا کرے؟
یہ بھی پڑھیں: تیری آواز میں ڈر بولتا ہے۔۔۔
مالی نقصانات کا تخمینہ
افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق ہر ماہ سرحد کی بندش سے تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، پاکستان پر تجارتی انحصار کی بدولت سرحدی بندش سے افغانستان کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم پر امن کے تحفظ اور ترقی کے فروغ کی زیادہ بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، چینی صدر
مستقبل کی مشکلات
ماہرین کے مطابق خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں سردیوں کے دوران افغان عوام کی زندگی مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ اگر پاک افغان سرحد جلد نہیں کھلی تو انسانی اور اقتصادی نقصان میں اضافہ ہوگا۔
افغان طالبان کا اقتصادی بحران
قابض افغان طالبان کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو شدید اقتصادی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔








