پاک افغان سرحدی بندش سے افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ
افغان طالبان کی ہٹ دھرمی اور پاکستان کی سرحدی بندش
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کی سرحدی بندش سے افغانستان کو شدید معاشی نقصان کے باوجود افغان طالبان کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا ؟
پاکستان اور افغانستان کی سرحدی بندش کے اثرات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاک افغان سرحد کی بندش سے افغان معیشت پر منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں جس پر افغان عوام نے شدید ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کے 5 جنگی جہاز گرانا ہماری افواج کی صلاحیت اور تیاری کا ثبوت ہے: اویس لغاری
مہنگائی کا بڑھتا ہوا عفریت
افغان نشریاتی ادارہ آمو ٹی وی کے مطابق پاکستان سے سرحدی بندش کے نتیجے میں افغانستان میں بنیادی اشیاء کی قیمتیں غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کسی اطلاع پر کان نہ دھریں، جہاں جہاں ہیں 24 نومبر کو احتجاج کیلیے باہر نکلیں: علیمہ خان
عوام کی آراء اور تنقید
افغان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغان عوام کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ عام لوگوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگیا ہے، بنیادی غذائی اشیاء اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں، غریب کیسے گزارا کرے؟
یہ بھی پڑھیں: بابا گورونانک کا 556 واں جنم دن، بھارت سے 2400 سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچ گئے
مالی نقصانات کا تخمینہ
افغان چیمبر آف کامرس کے مطابق ہر ماہ سرحد کی بندش سے تقریباً 200 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، پاکستان پر تجارتی انحصار کی بدولت سرحدی بندش سے افغانستان کو سب سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ہسپتال سے واپسی کی ویڈیو بنانے والا پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیر حراست
مستقبل کی مشکلات
ماہرین کے مطابق خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں سردیوں کے دوران افغان عوام کی زندگی مزید مشکل بنا سکتی ہیں۔ اگر پاک افغان سرحد جلد نہیں کھلی تو انسانی اور اقتصادی نقصان میں اضافہ ہوگا۔
افغان طالبان کا اقتصادی بحران
قابض افغان طالبان کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو شدید اقتصادی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔








