حیدرآباد میں ڈاکٹرز کا ’بدبو‘ آنے پر مریض کا علاج کرنے سے انکار کا معاملہ، اب علاج شروع ہوچکا، انچارج ایدھی
حیدرآباد میں مریض کا علاج تاخیر سے شروع
حیدرآباد (ویب ڈیسک) سول ہسپتال میں ڈاکٹرز نے بدبو آنے پر مریض کا علاج کرنے سے انکار کردیا تاہم اسے نہلائے جانے اور صاف کپڑے پہنائے جانے کے بعد علاج شروع کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: خوارج مساجد میں بیٹھ کر کوڈ کاپٹرز دہشتگردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
ایمبولینس ڈرائیور کی گواہی
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایمبولینس ڈرائیور نے بتایا کہ حیدرآباد کے سول ہسپتال میں لاوارث مریض کو لایا گیا، جس کے منہ سے مسلسل خون آرہا تھا اور صورت حال نازک تھی۔ ڈرائیور نے ڈاکٹرز سے درخواست کی کہ مریض کو نہلا کر کپڑے پہنوا دیتے ہیں تاکہ آپ علاج شروع کریں۔
یہ بھی پڑھیں: سوڈان میں غیر عرب باشندوں کی نسل کشی، الفاشر میں آر ایس ایف کے ہاتھوں 2 ہزار شہریوں کا قتل عام
اطلاع ملنے کے باوجود عدم ردعمل
ایمبولینس کے ڈرائیور نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے مریض کو وارڈ میں لینے سے انکار کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مریض 4 گھنٹوں سے ہسپتال کے گیٹ پر فرش پر تڑپتا رہا، لیکن کسی ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھارت جنگ بندی، امریکی صدر کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کا پیغام بھی آگیا۔
آخرکار علاج کا آغاز
بعد ازاں ایدھی حیدر آباد کے انچارج معراج نے بتایا کہ مریض کو 4 سے 5 گھنٹے بعد علاج کے لیے ایڈمٹ کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ مریض کو نہلا کر اچھے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں، جس کے بعد عملے نے لاوارث مریض کا علاج شروع کر دیا ہے۔
مریض کی معلومات
رپورٹس کے مطابق ہٹڑی تھانے کی حدود سے ملنے والے لاوارث مریض کو ایمبولینس میں لایا گیا تھا۔








