حیدرآباد میں ڈاکٹرز کا ’بدبو‘ آنے پر مریض کا علاج کرنے سے انکار کا معاملہ، اب علاج شروع ہوچکا، انچارج ایدھی
حیدرآباد میں مریض کا علاج تاخیر سے شروع
حیدرآباد (ویب ڈیسک) سول ہسپتال میں ڈاکٹرز نے بدبو آنے پر مریض کا علاج کرنے سے انکار کردیا تاہم اسے نہلائے جانے اور صاف کپڑے پہنائے جانے کے بعد علاج شروع کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کے الزم میں ایس پی سٹی اور ایس ایچ او کو ملزم قرار دے دیا گیا
ایمبولینس ڈرائیور کی گواہی
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایمبولینس ڈرائیور نے بتایا کہ حیدرآباد کے سول ہسپتال میں لاوارث مریض کو لایا گیا، جس کے منہ سے مسلسل خون آرہا تھا اور صورت حال نازک تھی۔ ڈرائیور نے ڈاکٹرز سے درخواست کی کہ مریض کو نہلا کر کپڑے پہنوا دیتے ہیں تاکہ آپ علاج شروع کریں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو اس سیریز سے سپرسٹارز ملیں گے، محمد رضوان کی زمبابوے کے خلاف سیریز سے قبل پریس کانفرنس
اطلاع ملنے کے باوجود عدم ردعمل
ایمبولینس کے ڈرائیور نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے مریض کو وارڈ میں لینے سے انکار کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مریض 4 گھنٹوں سے ہسپتال کے گیٹ پر فرش پر تڑپتا رہا، لیکن کسی ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پر ایران کا سائبر حملہ جاری
آخرکار علاج کا آغاز
بعد ازاں ایدھی حیدر آباد کے انچارج معراج نے بتایا کہ مریض کو 4 سے 5 گھنٹے بعد علاج کے لیے ایڈمٹ کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ مریض کو نہلا کر اچھے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں، جس کے بعد عملے نے لاوارث مریض کا علاج شروع کر دیا ہے۔
مریض کی معلومات
رپورٹس کے مطابق ہٹڑی تھانے کی حدود سے ملنے والے لاوارث مریض کو ایمبولینس میں لایا گیا تھا۔








