حیدرآباد میں ڈاکٹرز کا ’بدبو‘ آنے پر مریض کا علاج کرنے سے انکار کا معاملہ، اب علاج شروع ہوچکا، انچارج ایدھی
حیدرآباد میں مریض کا علاج تاخیر سے شروع
حیدرآباد (ویب ڈیسک) سول ہسپتال میں ڈاکٹرز نے بدبو آنے پر مریض کا علاج کرنے سے انکار کردیا تاہم اسے نہلائے جانے اور صاف کپڑے پہنائے جانے کے بعد علاج شروع کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے کارکن مطالبہ کرتے ہیں کہ احتجاج کی تاریخ دیں: بیرسٹر سیف
ایمبولینس ڈرائیور کی گواہی
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایمبولینس ڈرائیور نے بتایا کہ حیدرآباد کے سول ہسپتال میں لاوارث مریض کو لایا گیا، جس کے منہ سے مسلسل خون آرہا تھا اور صورت حال نازک تھی۔ ڈرائیور نے ڈاکٹرز سے درخواست کی کہ مریض کو نہلا کر کپڑے پہنوا دیتے ہیں تاکہ آپ علاج شروع کریں۔
یہ بھی پڑھیں: میرب علی نے سال 2025ء کو زندگی کا مشکل ترین سال قرار دیدیا
اطلاع ملنے کے باوجود عدم ردعمل
ایمبولینس کے ڈرائیور نے بتایا کہ ڈاکٹرز نے مریض کو وارڈ میں لینے سے انکار کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مریض 4 گھنٹوں سے ہسپتال کے گیٹ پر فرش پر تڑپتا رہا، لیکن کسی ڈاکٹر نے اس کی حالت دیکھنے کی زحمت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس سماعت کے لیے مقرر
آخرکار علاج کا آغاز
بعد ازاں ایدھی حیدر آباد کے انچارج معراج نے بتایا کہ مریض کو 4 سے 5 گھنٹے بعد علاج کے لیے ایڈمٹ کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ مریض کو نہلا کر اچھے کپڑے پہنا دیے گئے ہیں، جس کے بعد عملے نے لاوارث مریض کا علاج شروع کر دیا ہے۔
مریض کی معلومات
رپورٹس کے مطابق ہٹڑی تھانے کی حدود سے ملنے والے لاوارث مریض کو ایمبولینس میں لایا گیا تھا۔








