مسلم کش طریقہ سے تنگ آ کر پاکستان کی تجویز پیش کی، آزادی کے لیے 2 کروڑ جانوں کی قربانی بھی دینی پڑی تو ہم تیار ہیں
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 226
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکہ فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے جا رہا ہے ۔۔۔؟ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا اہم بیان آ گیا
قائد اعظم کا تاریخی بیان
آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے منعقد کی گئی اس کانفرنس میں قائد اعظم محمد علی جناح نے اِن الفاظ میں نعرہ حق بلند کیا تھا اور کانگرسی پالیسی کی قلعی کھول کر رکھ دی تھی:
”گزشتہ تیس برسوں سے ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں کی گئیں لیکن یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکیں۔ کانگریس نے 1937ء کے انتخابات جیت کر جب اپنی وزارتیں بنائیں تو ا س کے تمام دعوؤں کی قلعی کھل گئی اور یہ جماعت مسلمان ”اقلیت“ کا کسی طور پر بھی تحفظ نہ کر سکی۔ لہٰذا 23 مارچ 1940ء کو مسلمانوں نے اپنی منزل کا تعین کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں قرارداد منظور کی۔ کانگرس کا یہ کہنا کہ وہ ایک قومی جماعت ہے اور ملک کی آزادی کے لیے کوشاں ہے بالکل غلط ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کانگرس قومی جماعت نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر ایک ہندو جماعت ہے۔ گول میز کانفرنس میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اس رویئے اور مسلم کش روش سے تنگ آ کر ہم نے پاکستان کی تجویز پیش کی ہے۔ ایسے علاقے کہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں انہیں آزاد کروانے کے لیے ہمیں قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اس ڈرامے کے آخری سین کے لیے اگر ہمیں 2 کروڑ جانوں کی قربانی بھی دینی پڑی تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں“۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے قونصلیٹ جنرل، بارسلونا کی طرف سے کرسمس تقریب کا انعقاد
دوپہر کا وقت
دوپہر کا 1 بج رہا تھا اور کھانے کے بعد ہماری ملاقات کے لیے 2 بجے یوگا سپیشلسٹ ڈاکٹر روندر پوروال کے آنے کا وقت ہونے والا ہے۔ ہم نے شکریہ کے ساتھ نوشاد عالم منصوری سے اجازت چاہی اور دل ہی دل میں کہا … آفرین میرے قائد اعظم۔
”اَج تے ہو گئی-----یوگا یوگا“
یہ بھی پڑھیں: ایئر لائنز کے انتظامی مسائل ختم نہ ہوسکے، 4 پروازیں منسوخ اور متعدد تاخیر
ڈاکٹر روندر پوروال کی آمد
ڈاکٹر روندر پور وال پاکستانی وفد سے ملاقات کے لیے ٹھیک 2 بجے ہمارے ہوٹل ’وجے ولا‘ پہنچ گئے۔ میرے کمرے میں سب دوست پہلے سے ہی موجود تھے جہاں ہم لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کا استقبال کیا۔ ان کے ہمراہ دو ساتھی بھی تھے۔ ان کا نام ڈاکٹر شاہ نواز کاظمی تھا جبکہ دوسری ایک ہندو خاتون تھیں جو نرسنگ کے فرائض سرانجام دیتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دریائوں پر قائم منصوبوں سے پاکستان کتنی بجلی پیدا کرتا ہے؟
نور جہاں جعفر کی بیماری کی تفصیلات
ڈاکٹر روندر پور وال نے سلام نمستے کے فوراً ہی بعد ہماری علیل ساتھی نور جہاں جعفر کے بارے میں پوچھا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ وہ ساتھ والے کمرے میں دیگر خواتین کے ساتھ موجود ہیں تو ڈاکٹر پوروال نے اپنی لیڈی نرس کو ہدایت کی کہ وہ خواتین کے کمرے میں جائیں اور نور جہاں جعفر کی بیماری کی تفصیل نوٹ کریں اور انہیں ضروری ورزش کا طریقہ سکھائیں۔
یہ بھی پڑھیں: مغلپورہ ورکشاپ میں 24 گھنٹے کام ہوتا ہے، آج سے 74 سال پہلے انگریز اس ورکشاپ کو جس حالت میں چھوڑ کر گیا تھا آج بھی تقریباً ویسی ہی ہے۔
ڈاکٹر پوروال کا تعارف
لیڈی نرس کے جانے کے بعد ڈاکٹر پور وال نے بتایا کہ وہ یوگا ایکسپرٹ ہیں اور کانپور میں بھگوت داس روڈ پر شری ناتھ نیچر و پیتھی اینڈ یوگا سنٹر کے چیف کنسلٹنٹ ہیں۔ جبکہ ڈاکٹر شاہ نواز کاظمی اور ڈاکٹر سوہن لال سمیت متعدد ڈاکٹر اس سنٹر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر پوروال نے بتایا کہ وہ انسانی جسم کے پور پور سے واقف ہیں اور انسانی امراض میں سے کوئی ایسا نہیں جس کا علاج یوگا کے ذریعے نہ کیا جا سکتا ہو۔
یوگا کا تعلیمی پس منظر
ڈاکٹر صاحب نے بتایا بابائے یوگا مہارشی پتن جلی وہ پہلا شخص تھا جس نے یوگا کو باقاعدہ ایک طریقہ علاج قرار دیا۔ پتن جلی نے ایک انسان کی شخصیت اور بدن کو امراض و عوارض سے پاک رکھنے کے لیے یوگا کے 8 طریقے ہراشتنگا یوگا ایجاد کئے۔ ان طریقوں میں جسمانی حرکات و سکنات، سانس، حسیاتی اعصاب اور نشست و برخاست مختلف طور طریقوں کا پابند کیا جاتا ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








