مغرب کی سیاسی و معاشی برتری کمزور ہو رہی ہے، مسلم ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا : مشاہد حسین سید
مغرب کی سیاسی و معاشی برتری
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق سینیٹر اور امورِ خارجہ کے ماہر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ مغرب کی سیاسی و معاشی برتری کمزور ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا گیس کے نئے کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ
مسلمان ممالک کا مشترکہ عمل
انہوں نے بتایا کہ بھارت اور اسرائیل کے خلاف تمام مسلم ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تمام مسلم ممالک کے درمیان گفتگو، باہمی تعاون اور ایک نظریہ کے تحت ورلڈ آرڈر کو شکست دی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تاجک وزیرِ دفاع کا جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی کا دورہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات
بین الاقوامی گول میز کانفرنس
مشاہد حسین سید نے ان خیالات کا اظہار لاہور کے مقامی ہوٹل میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سمیت دنیا کے مختلف خطوں اور جماعتوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کو شکست دیدی
نئی ابھرتی ہوئی قوتیں
’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے مطابق، مشاہد حسین سید نے کہا کہ مغرب کی سیاسی و معاشی برتری کمزور ہو رہی ہے جبکہ ترکیہ، ایران، سعودی عرب، پاکستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک عالمی سیاست میں نئی ابھرتی ہوئی قوتیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سنگین مالی و طبی بے ضابطگیوں اور مریضوں کو ایکسپائر اسٹنٹس ڈالنے کا انکشاف
پاکستان اور فلسطین کے تاریخی تعلق
انہوں نے پاکستان اور فلسطین کے تاریخی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 1940 کی قراردادیں فلسطین اور پاکستان کی مشترکہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ قائداعظم نے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی تھی اور پاکستانی پائلٹوں نے عرب اسرائیل جنگوں میں عملی حصہ لیا۔
امن کا قیام
ان کے مطابق خطے میں امن فلسطین کی آزاد ریاست کے قیام اور یروشلم کو اس کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بغیر ممکن نہیں۔








