تائیوان چین کے پاس واپسی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا اہم حصہ ہے، چینی صدر کی امریکی ہم منصب سے گفتگو
چینی صدر کا ٹرمپ سے ٹیلیفون رابطہ
بیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن) چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان سے تجارت، تائیوان، اور یوکرین کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیرِ ریلوے نے دسمبر تک 100 نئی کوچز سسٹم میں شامل کرنے کا ٹارگٹ دے دیا
تائیوان کے مسئلے پر وضاحت
چینی میڈیا کے مطابق صدر شی جن پنگ نے تائیوان کے مسئلے پر چین کا مؤقف واضح کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ تائیوان کی چین کے پاس واپسی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام (پوسٹ وار انٹرنیشنل آرڈر) کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قبر سے 7 سالہ بچی کی میت غائب، ماموں دعا کے لیے آیا تو کفن باہر پڑا تھا
دوسری جنگ عظیم کی فتوحات کا تحفظ
چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور امریکہ کو دوسری جنگ عظیم کی فتوحات کو مشترکہ طور پر محفوظ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے مؤقف کو ایسے وقت واضح کیا ہے جب حال ہی میں جاپانی وزیراعظم کے تائیوان سے متعلق متنازع بیان کے بعد چین اور جاپان میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طیاروں کے بعد بھارت کی کرنسی بھی زمین بوس ہو گئی
روس یوکرین جنگ پر تبادلہ خیال
فون کال کے دوران دونوں ممالک کے صدور نے روس یوکرین جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ شی جن پنگ نے چین کی طرف سے امن کی تمام کوششوں کی حمایت پر زور دیا اور امید ظاہر کی کہ تمام فریق اپنے اختلافات کو کم کریں گے اور جلد ہی امن معاہدے تک پہنچیں گے۔
کال کی تصدیق
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ یہ کال پیر کی صبح ہوئی تھی لیکن انہوں نے کال کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔








