ٹرمپ کی چینی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو، دورہ چین کی دعوت قبول کرلی
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی گفتگو
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ان کی چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ٹیلیفون پر ’’بہت اچھی‘‘ گفتگو ہوئی ہے، اور وہ اپریل میں بیجنگ کے دورے کی چینی صدر کی دعوت قبول کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آج بھی مل بیٹھتے ہیں تو اُس دور کی یادیں دوڑی چلی آتی ہیں، بس ایک کسک رہتی ہے کہ کچھ چہرے جو ہمیشہ مسکراتے تھے اب ابدی گھروں کو جا چکے ہیں
مختلف موضوعات پر بات چیت
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’’ابھی میری چین کے صدر شی کے ساتھ ایک بہت اچھی فون کال ہوئی۔ ہم نے یوکرین/روس، فینٹینائل، سویابین اور دیگر زرعی مصنوعات سمیت کئی موضوعات پر بات کی۔‘‘ انہوں نے امریکہ اور چین کے تعلقات کو ’’انتہائی مضبوط‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں کا حکومتی وزراء اور مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا فیصلہ
چین کا بیجنگ دورے کی دعوت
ٹرمپ کے مطابق، صدر شی نے انہیں اپریل میں بیجنگ آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا، اور جواباً انہوں نے شی جن پنگ کو سال کے آخر میں امریکہ کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویسٹ انڈیز نے سکاٹ لینڈ کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شکست دے دی
دوطرفہ تعاون اور تائیوان کا مسئلہ
اس سے قبل پیر کو چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی شِنہوا نے رپورٹ کیا کہ دونوں رہنماؤں نے فون کال میں دوطرفہ تعاون اور تائیوان کے مسئلے پر بھی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر کے گھر غیرملکی ملازمہ کی چوری کی چونکادینے والی واردات
مثبت رفتار کی اہمیت
شی جن پنگ نے ٹرمپ سے کہا کہ دونوں ممالک کو تعلقات میں ’’مثبت رفتار‘‘ برقرار رکھنی چاہیے۔ یہ کال گزشتہ ماہ جنوبی کوریا میں ہونے والی ان کی ملاقات کے بعد ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے تجارتی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے کوششیں کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی حدود کی بندش، پی آئی اے کی ملائیشیا جانے والی پرواز نے کونسا راستہ استعمال کیا؟ جانیے
ملاقات کا تسلسل
ٹرمپ نے کہا کہ یہ فون کال جنوبی کوریا میں ہونے والی ’’انتہائی کامیاب‘‘ ملاقات کا تسلسل تھی۔ ’’اس کے بعد دونوں طرف سے معاہدوں کو درست اور مؤثر رکھنے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔‘‘
تائیوان کی واپسی کی اہمیت
شِنہوا کے مطابق، شی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ’’تائیوان کی چین میں واپسی جنگِ عظیم کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کا اہم حصہ ہے۔‘‘








