بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا بند کر دیا
بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا تقریباً بند کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 1100 پوائنٹس سے زائد اضافہ
دریائی معلومات کی کمی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق بھارت اب پاکستان کو دریاؤں میں آنے والے پانی کے بارے میں صرف اتنی اطلاع دیتا ہے کہ سیلابی ریلا اونچے درجے کا ہے یا نچلے درجے کا مگر وہ اصل اعداد و شمار خصوصاً کیوسک میں بہاؤ فراہم نہیں کرتا جو معاہدے کے تحت شیئر کیے جانے لازمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون کو دیور نے مبینہ طور پر مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا،ملزم گرفتار
حکام کا موقف
سیکرٹری وزارت آبی وسائل نے بتایا ہے کہ بھارت اب معلومات انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے نہیں دیتا بلکہ دفترِ خارجہ کے راستے رابطہ کرتا ہے جو کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باہمی احترام اور برداشت کو فروغ دیں، وزیرقانون
سیٹلائٹ امیجز پر انحصار
صحیح اعداد و شمار نہ ملنے کے باعث پاکستان کو سیٹلائٹ امیجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے جن میں تقریباً 25 فیصد تک فرق آ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سیلابی خدشات یا ممکنہ نقصان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی ایف 35 کی جاپان میں ہنگامی لینڈنگ
بھارتی معلومات کی کمی
دفترِ خارجہ کے مطابق مئی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت نے اگست اور ستمبر میں پاکستان سے رابطہ کیا، 24 اگست سے 10 ستمبر کے دوران بھارت نے پاکستان کو 18 مرتبہ آگاہ کیا اور دفترِ خارجہ کو 18 نوٹ وربیل موصول ہوئیں مگر یہ معلومات بھی ادھوری تھیں اور تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
خلاف ورزی کی شدت
حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی یہ روش سندھ طاس معاہدے کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے اور انڈس واٹر کمشنر کے باضابطہ چینل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی واٹر مینجمنٹ اور پیشگی حفاظتی انتظامات متاثر ہو رہے ہیں۔








