بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا بند کر دیا
بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا تقریباً بند کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ابھی کچھ استعفے اور آئیں گے، یہ کھینچا تانی اور تقسیم چیف جسٹس بننے کے لیے ہے، سپیکر پنجاب اسمبلی
دریائی معلومات کی کمی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق بھارت اب پاکستان کو دریاؤں میں آنے والے پانی کے بارے میں صرف اتنی اطلاع دیتا ہے کہ سیلابی ریلا اونچے درجے کا ہے یا نچلے درجے کا مگر وہ اصل اعداد و شمار خصوصاً کیوسک میں بہاؤ فراہم نہیں کرتا جو معاہدے کے تحت شیئر کیے جانے لازمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مفادات کے لیے سب ایک ہو جاتے ہیں، تعلیم اور عوام کے لیے نہیں ہوتے: حافظ نعیم الرحمان
حکام کا موقف
سیکرٹری وزارت آبی وسائل نے بتایا ہے کہ بھارت اب معلومات انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے نہیں دیتا بلکہ دفترِ خارجہ کے راستے رابطہ کرتا ہے جو کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوڈشیڈنگ کا عذاب؛ کے الیکٹرک کیخلاف جماعت اسلامی کی درخواست بحال
سیٹلائٹ امیجز پر انحصار
صحیح اعداد و شمار نہ ملنے کے باعث پاکستان کو سیٹلائٹ امیجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے جن میں تقریباً 25 فیصد تک فرق آ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سیلابی خدشات یا ممکنہ نقصان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2026 میں بھی سونے کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع
بھارتی معلومات کی کمی
دفترِ خارجہ کے مطابق مئی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت نے اگست اور ستمبر میں پاکستان سے رابطہ کیا، 24 اگست سے 10 ستمبر کے دوران بھارت نے پاکستان کو 18 مرتبہ آگاہ کیا اور دفترِ خارجہ کو 18 نوٹ وربیل موصول ہوئیں مگر یہ معلومات بھی ادھوری تھیں اور تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
خلاف ورزی کی شدت
حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی یہ روش سندھ طاس معاہدے کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے اور انڈس واٹر کمشنر کے باضابطہ چینل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی واٹر مینجمنٹ اور پیشگی حفاظتی انتظامات متاثر ہو رہے ہیں۔








