بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا بند کر دیا
بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیاں
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔تازہ ترین صورتحال کے مطابق بھارت نے پاکستان کے ساتھ دریاؤں کے پانی سے متعلق اعداد و شمار شیئر کرنا تقریباً بند کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز سے ایتھوپیا کے سفیر کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر زور
دریائی معلومات کی کمی
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز ذرائع کے مطابق بھارت اب پاکستان کو دریاؤں میں آنے والے پانی کے بارے میں صرف اتنی اطلاع دیتا ہے کہ سیلابی ریلا اونچے درجے کا ہے یا نچلے درجے کا مگر وہ اصل اعداد و شمار خصوصاً کیوسک میں بہاؤ فراہم نہیں کرتا جو معاہدے کے تحت شیئر کیے جانے لازمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعہ) کا دن کیسا رہے گا ؟
حکام کا موقف
سیکرٹری وزارت آبی وسائل نے بتایا ہے کہ بھارت اب معلومات انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے نہیں دیتا بلکہ دفترِ خارجہ کے راستے رابطہ کرتا ہے جو کہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آدمی بیوی کو بچانے کیلئے خطرناک قطبی ریچھ پر جھپٹ پڑا
سیٹلائٹ امیجز پر انحصار
صحیح اعداد و شمار نہ ملنے کے باعث پاکستان کو سیٹلائٹ امیجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے جن میں تقریباً 25 فیصد تک فرق آ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں سیلابی خدشات یا ممکنہ نقصان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائجیریا نے داعش کے ٹھکانوں پر امریکی فضائی حملوں کی تصدیق کر دی
بھارتی معلومات کی کمی
دفترِ خارجہ کے مطابق مئی میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارت نے اگست اور ستمبر میں پاکستان سے رابطہ کیا، 24 اگست سے 10 ستمبر کے دوران بھارت نے پاکستان کو 18 مرتبہ آگاہ کیا اور دفترِ خارجہ کو 18 نوٹ وربیل موصول ہوئیں مگر یہ معلومات بھی ادھوری تھیں اور تفصیلات شامل نہیں تھیں۔
خلاف ورزی کی شدت
حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی یہ روش سندھ طاس معاہدے کی مسلسل اور سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے اور انڈس واٹر کمشنر کے باضابطہ چینل کو نظرانداز کیا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی واٹر مینجمنٹ اور پیشگی حفاظتی انتظامات متاثر ہو رہے ہیں۔








