آسٹریلوی پارلیمنٹ نے انتہاپسند خاتون سیاستدان کو برقعہ پہن کر ایوان میں آنے پر معطل کر دیا
آسٹریلیا میں انتہا پسند سیاستدان کی معطلی
میلبرن (ڈیلی پاکستان آن لائن) آسٹریلیا میں مسلمان خواتین کے لباس پر پابندی کے حق میں احتجاج کرنے والی انتہا پسند سیاستدان پالین ہنسن کو پارلیمنٹ میں برقعہ پہننے پر ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان میں ہمیں عبادات کے ساتھ معاشرے میں انسانیت کے لیے خدمات سرانجام دینی چاہیے، محمد ثقلین مہرو
سینیٹ میں برقعہ پہن کر جانے کا اقدام
بی بی سی کے مطابق ’ون نیشن‘ پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر پالین ہنسن پیر کے روز سینیٹ میں مکمل برقعہ پہن کر داخل ہوئیں، تاکہ وہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی سے متعلق اپنا بل پیش کر سکیں۔ تاہم دیگر سینیٹرز نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سینیٹ نے ان کی سرزنش بھی کی۔مسلم گرینز کی سینیٹر مہِرین فاروقی نے ہنسن کے عمل کو ’نسل پرستی‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقدس شخصیات کی توہین کا مقدمہ، انجینئر محمد علی مرزا کا 7روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
وفاقی عدالت کی سابقہ رائے
گزشتہ برس وفاقی عدالت بھی قرار دے چکی ہے کہ ہنسن نے مہرین فاروقی کے خلاف نسلی امتیاز برتا تھا، جس فیصلے کے خلاف وہ اس وقت اپیل کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار محدود، جذبات کے بجائے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
حکومتی رہنما کی سرزنش
آزاد سینیٹر فاطمہ پیمن نے اس عمل کو ’شرمناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات آسٹریلیا کے مسلم شہریوں کی بے عزتی ہیں۔ منگل کے روز وزیر خارجہ اور حکومتی رہنما پینی وونگ نے سینیٹ میں ہنسن کی باقاعدہ سرزنش کی قرارداد پیش کی، جو 55 کے مقابلے میں 5 ووٹوں سے منظور ہوئی۔قرارداد میں کہا گیا کہ ہنسن کے اقدامات کا مقصد لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا اور مذاق اڑانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیر داخلہ کو شکست دے کر ایم این اے بننے والے لیگی رہنما کا تہلکہ خیز انٹرویو
ہنسن کا ردعمل
فیس بک پر اپنے ردعمل میں ہنسن نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں برقعہ نہ پہنیں، تو ملک میں برقعہ پر پابندی نافذ کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا ضلع آواران میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن، 3 بھارتی سپانسر دہشتگرد جہنم واصل، میجر شہید
ماضی کا واقعہ
پالین ہنسن اس سے قبل 2017 میں بھی پارلیمنٹ میں برقعہ پہن کر آئی تھیں اور اس وقت بھی ملک بھر میں پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔








