موبائل، پیسے اور پرس بھول جانا عام بات مگر ایئر انڈیا اپنا مسافر طیارہ ایئر پورٹ پر کھڑا کر 13 سال کیلئے بھول گئی
ایئر انڈیا کا کھو جانے والا طیارہ کولکتہ ایئرپورٹ پر ملا
کولکتہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) ایئر انڈیا کا کھو جانے والا طیارہ 13 سال بعد کولکتہ ایئرپورٹ پر کھڑا مل گیا۔ بوئنگ 737-200 طیارہ جو گزشتہ 13 برس سے بیکار کھڑا تھا، اسے آخر کار بنگلورو روانہ کر دیا گیا ہے جہاں اسے انجینئرز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ریجنل اینٹی ٹیررسٹ سٹرکچر کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا سے ملاقات
ناکارہ طیاروں کی ہٹائی جانے والی تعداد
تفصیلات کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں بھارتی ایئرپورٹ سے یہ 14 واں ناکارہ طیارہ ہٹایا گیا ہے۔ اس مقام پر اب ایئرپورٹ کا نیا ہینگر تعمیر کیا جائے گا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایئر انڈیا کو اپنے اس جہاز کے بارے میں معلومات ہی نہیں تھیں، یہ واحد طیارہ ہے جو کہ اپنے دو انجنوں کے ساتھ فروخت ہوا جبکہ باقی 9 طیارے بغیر انجنوں کے فروخت کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: T Karachi Traders Approach High Court to Halt Islamabad Protests
ایئر انڈیا کے سی ای او کی وضاحت
ایئر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے انکشاف کیا کہ ایئرلائن کو اس 43 سالہ طیارے کی ملکیت کا حال ہی میں علم ہوا، جب کولکتہ ایئرپورٹ حکام نے توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا، "یہ عام بات ہوتی اگر یہ ایک ایسا طیارہ نہ ہوتا جس کی ملکیت سے ہم خود لاعلم تھے!" یہ طیارہ تین سال قبل نجکاری کے عمل کے دوران کمپنی کے ریکارڈ اور ادارہ جاتی یادداشت سے غائب ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا یوٹیوب چینل غائب ہوگیا
طیارے کی تاریخ
یہ طیارہ ستمبر 1982 میں انڈین ایئرلائنز کے فلیٹ میں شامل ہوا، 1998 میں اسے الائنس ایئر کو لیز پر دیا گیا، 2007 میں دوبارہ انڈین ایئرلائنز میں واپس آیا اور کارگو کے طور پر استعمال ہوا۔ اسی سال انڈین ایئرلائنز اور ایئر انڈیا کے انضمام کے بعد یہ ایئر انڈیا کا حصہ بن گیا۔ بعدازاں یہ انڈیا پوسٹ کے ذریعے استعمال ہوتا رہا اور 2012 میں ڈی کمیشن کر دیا گیا۔
ایئرپورٹ حکام کی جانب سے وصول کردہ رقم
اس کے بعد سے یہ طیارہ کولکتہ ایئرپورٹ کے جنوب مشرقی حصے میں کھڑا تھا۔ ایئر انڈیا نے یہ طیارہ بنگلور انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ کو فروخت کیا، تاہم ایئرپورٹ حکام نے 13 سال تک پارکنگ کی مد میں تقریباً ایک کروڑ روپے وصول کیے۔








