سلمان اکرم راجہ کی پشاور میں اجتماعی دعا کے اہتمام کی تجویز پر شیرافضل مروت کا ردعمل آگیا
شیرافضل مروت کا ردعمل
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی پشاور میں اجتماعی دعا کے اہتمام کی تجویز پر شیرافضل مروت کا ردعمل آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی بمباری: خواتین اور بچوں سمیت 44 فلسطینی شہید
سوشل میڈیا پر بیان
سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں شیرافضل مروت نے سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی یہ تجویز کہ پشاور میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جائے، واقعی وقت کی ضرورت اور حالات کی سنگینی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ ہم سب ان معصوم اور مظلوم جانوں کے لیے دعاگو ہیں جن کا انتقال 26 نومبر کے سانحے میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (SDMA) پر دستخط کیا معنی رکھتے ہیں؟ سیکیورٹی ذرائع نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں۔
روحانی راستے کا مشورہ
تاہم، جس روحانی راستے کا آپ نے انتخاب فرمایا ہے، اس کے ساتھ ایک لطیف مشورہ بھی عرض ہے۔ اگر خان صاحب کی رہائی کی تحریک کو الہامی طاقت دینی ہے یا جدوجہد میں وجد اور روحانی توانائی بھرنی ہے، تو پھر قوالی کا اضافہ نہایت موزوں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فاسٹ بولر احسان اللہ پی ایس ایل میں کس ٹیم کی طرف سے کھیلیں گے ؟
قوالی کے فوائد
یہ قوالی نہ صرف دلوں میں جوش پیدا کرے گی بلکہ جماعت کے روحانی مزاج کو بھی تقویت ملے گی اور اس سفرِ نجات میں ایک نیا وجدانی پہلو شامل ہو جائے گا۔ اور ہاں، جب یہ سلسلہ چل پڑے تو اگلے مرحلے میں روحانی احتجاج بمع دھمال بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آخر وہی راستہ انسان کو اس مقامِ یقین تک پہنچاتا ہے جہاں دلیل کمزور پڑ جائے اور وجد کمال دکھا دے۔
تھوڑا سا آہ و زاری
شیرافضل مروت کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب، ان مواقع پر تھوڑی سی آہ و زاری بھی شامل کر لی جائے تو سیاسی و روحانی دونوں جہتوں کا حسن دوبالا ہو جائے گا۔ آپ جیسے صاحبانِ ذوق کے لیے یہ طریقہ یقیناً زیادہ مناسب، زیادہ نتیجہ خیز اور زیادہ دیرپا ثابت ہوگا۔ آخر کار، اگر تحریک کو غیبی امکانات کے سپرد ہی کرنا ہے تو پھر راستہ یہی ہے: دعا، قوالی، وجد، آہ و زاری اور دھمال…یقین کامل کے ساتھ۔
جناب سلمان اکرم راجہ صاحب!
آپ کی یہ تجویز کہ پشاور میں اجتماعی دعا کا اہتمام کیا جائے
واقعی وقت کی ضرورت اور حالات کی سنگینی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
ہم سب ان معصوم اور مظلوم جانوں کے لیے دعاگو ہیں جن کا انتقال 26 نومبر کے سانحے میں ہوا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرمائے اور… https://t.co/HVUlzxwI4y— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) November 25, 2025








