بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں، پیسوں کے لیے جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، جج سپریم کورٹ
اسلام آباد میں بل بورڈز کی قانونی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بل بورڈز سے متعلق کیس میں جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ شہریوں کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ آندھی طوفان میں بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟
یہ بھی پڑھیں: ازبک صدر دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، 21 توپوں کی سلامی
عدالت کی برہمی
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز نصب کرنے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: رافیل کی تباہی بھارتی دفاعی نظام کے لیے سٹریٹجک، نفسیاتی اور سفارتی دھچکا، پاکستانی تجزیہ نگار نے بھانڈاپھوڑ دیا
جسٹس حسن رضوی کی تشویش
جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں اور صرف فیس کی مد میں پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے شہریوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آندھی طوفان میں بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟ کیا اتھارٹی اس کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہے؟
یہ بھی پڑھیں: سی سی ڈی کے نان اسٹاپ مبینہ مقابلے جاری، مزید 2 ملزم ہلاک، 4 فرار
نظام اور معیار پر سوالات
عدالت نے بل بورڈز نصب کرنے کے طریقۂ کار اور تعمیراتی معیار پر بھی سوالات اٹھائے اور یاد دلایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی بل بورڈز پر پابندی کا فیصلہ دے چکی ہے۔
آخری فیصلے اور ملتوی سماعت
اتھارٹی کے وکیل نے عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے مہلت مانگی، جس پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اجازت سے متعلق بات کی گئی تو اپیل جرمانے کے ساتھ مسترد کردی جائے گی۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔








