بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں، پیسوں کے لیے جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، جج سپریم کورٹ

اسلام آباد میں بل بورڈز کی قانونی کارروائی

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بل بورڈز سے متعلق کیس میں جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ شہریوں کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ آندھی طوفان میں بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟

یہ بھی پڑھیں: سموگ کے باعث متعدد شہروں میں سکول 17 نومبر تک بند کردیئے گئے

عدالت کی برہمی

تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز نصب کرنے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایک بار پھر سازش کے تحت ایم کیو ایم کو دیوار سے لگایا جارہا ہے، فاروق ستار

جسٹس حسن رضوی کی تشویش

جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں اور صرف فیس کی مد میں پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے شہریوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آندھی طوفان میں بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟ کیا اتھارٹی اس کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہے؟

یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل دبئی کا کارپوریٹ ٹیکس، ٹرانسفر پرائسنگ اور ای-انوائسنگ پر معلوماتی اجلاس

نظام اور معیار پر سوالات

عدالت نے بل بورڈز نصب کرنے کے طریقۂ کار اور تعمیراتی معیار پر بھی سوالات اٹھائے اور یاد دلایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی بل بورڈز پر پابندی کا فیصلہ دے چکی ہے۔

آخری فیصلے اور ملتوی سماعت

اتھارٹی کے وکیل نے عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے مہلت مانگی، جس پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اجازت سے متعلق بات کی گئی تو اپیل جرمانے کے ساتھ مسترد کردی جائے گی۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...