بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں، پیسوں کے لیے جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، جج سپریم کورٹ
اسلام آباد میں بل بورڈز کی قانونی کارروائی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بل بورڈز سے متعلق کیس میں جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ شہریوں کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ آندھی طوفان میں بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے صوبائی وزیر زراعت علی مدد جتک کی اسمبلی رکنیت بحال
عدالت کی برہمی
تفصیلات کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں بل بورڈز نصب کرنے کی اجازت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پارکس اینڈ ہینڈی کرافٹ اتھارٹی پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کی آواز کو دبا کر فسطائیت کا نظام قائم کیا گیا لیکن یہ ختم ہو کر رہے گا، سلمان اکرم راجا
جسٹس حسن رضوی کی تشویش
جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ بل بورڈز نہایت خطرناک ہوتے ہیں اور صرف فیس کی مد میں پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے شہریوں کی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آندھی طوفان میں بل بورڈ گرنے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کی ذمہ داری کون لے گا؟ کیا اتھارٹی اس کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پرویز مشرف نے وزیراعظم کو برطرف کرنے کا اقدام کیا تو چیف جسٹس نے فُل کورٹ کے ہمراہ کیس کی سماعت کی اور اس تبدیلی کو کامیاب انقلاب تسلیم کر لیا
نظام اور معیار پر سوالات
عدالت نے بل بورڈز نصب کرنے کے طریقۂ کار اور تعمیراتی معیار پر بھی سوالات اٹھائے اور یاد دلایا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی بل بورڈز پر پابندی کا فیصلہ دے چکی ہے۔
آخری فیصلے اور ملتوی سماعت
اتھارٹی کے وکیل نے عدالتی فیصلوں کا جائزہ لینے کے لیے مہلت مانگی، جس پر عدالت نے مہلت دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اجازت سے متعلق بات کی گئی تو اپیل جرمانے کے ساتھ مسترد کردی جائے گی۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔








