سیشن جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیشن جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے 8 شہروں پر فوری طور پر دفعہ 144 نافذ
سماعت کے دوران مؤقف
روزنامہ جنگ کے مطابق دوران سماعت وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ 7 نومبر کو پٹیشن پر نمبر لگا اور آج 26 ہوگئی، اب تک تو فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ آپ چیف جسٹس ہیں، آپ کے پاس اختیارات ہیں، یہ جوڈیشری کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی صدارت سنبھالنے والی ڈیلسی روڈریگز کون ہیں؟
چیف جسٹس کے ریمارکس
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سن لیا، اس پر آرڈر پاس کریں گے۔ کیوں نہ معاملہ ہائی کورٹ کی انسپکشن ٹیم کو بھجوا دیا جائے، کیونکہ سیشن کورٹ کے ججز کا معاملہ انسپکشن ٹیم کو بھجوایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی نئے صوبے بنانے کی حمایت کر دی
عدلیہ کی ماضی کی آبزرویشنز
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو 2004 میں آبزرویشن دی تھیں، جو نوٹیفکیشن آپ چیلنج کر رہے ہیں اس میں بظاہر کوئی غیر قانونی چیز نہیں۔ جو بات آپ کر رہے ہیں اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی نے جج کو بحال کر دیا تھا۔ آپ کو بڑے ادب سے سمجھا دیا ہے، پھر بھی آپ کو مسئلہ ہے تو لاہور ہائی کورٹ جائیں۔
سیشن جج ناصر جاوید رانا کا پس منظر
واضح رہے کہ سیشن جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنایا تھا۔








