پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی الیکشن کمیشن طلبی نوٹس کے خلاف درخواستیں خارج کردیں
وزیراعلیٰ اور امیدوار کا کیس
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی اور این اے 18 کے امیدوار شہر ناز کا الیکشن کمیشن کے طلبی نوٹس کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دونوں درخواستیں خارج کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس اہداف میں ناکامی: آئی ایم ایف نے منی بجٹ کا مطالبہ کردیا
عدالت کا فیصلہ
جسٹس ارشد علی کی سربراہی میں گزشتہ روز دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا، جو آج سنایا گیا۔ عدالت نے دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پختونخوا میں نیا سکینڈل: سرکاری ادائیگیوں کے ذریعے 16 ارب 50 کروڑ نکالنے کا انکشاف
درخواست گزار کا موقف
وکیل درخواست گزار نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں یہ کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں، اور نوٹس میں 234 الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف دو مختلف کارروائیاں جاری ہیں، ایک ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی جانب سے۔ انہوں نے درخواست کی کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس معطل کر کے حتمی کارروائی سے روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: فلپائن میں 6.7 شدت کا زلزلہ، منڈاناؤ میں خوف و ہراس، آفٹر شاکس کا خدشہ
جج کا ریمارکس
جسٹس وقار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آپ کے خلاف کوئی کارروائی تو نہیں کی ہے۔ جب آپ نے الیکشن کمیشن کی پروسیڈنگز جوائن کر لی تو پھر انتظار کریں۔ جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی ایڈورس ایکشن کرے تو تب ہمارے پاس آئیں۔ آپ خود اپنے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیمار بچوں کی جگہ سکول میں پڑھنے والا روبوٹ تیار کر لیا گیا
الیکشن کمیشن کی حیثیت
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے۔ انتخابات کے کوڈ آف کنڈکٹ پر عمل درآمد کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن کے اسٹاف کو دھمکانا بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی میں شمار ہوتا ہے۔
نتیجہ
عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے درخواستیں خارج کر دیں۔








