لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانے بڑھانے کی تجویز منظور
پنجاب حکومت کا نیا ٹریفک قوانین کا مسودہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن ) حکومت پنجاب نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 میں چوتھی ترمیم کے ذریعے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں میں اضافہ کر نے کی تجویز منظور کر لی ہے۔ اس ترمیم کے تحت مختلف وائلیشنز کے حوالے سے مقدمات کا اندراج بھی کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو رہا کروا کر ہی دم لیں گے، علی امین گنڈا پور
شہریوں کے لئے آگاہی مہم
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، سی ٹی او کے حکم پر ٹریفک پولیس لاہور نے نئے جرمانوں کے حوالے سے شہریوں میں آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ واضح کیا گیا ہے کہ مختلف گاڑیوں کی خلاف ورزیوں پر مختلف جرمانے ہوں گے، اور ایف آئی آر کے اندراج کے ساتھ ڈرائیونگ لائسنس بھی معطل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی صارفین کے لیے بڑی خبر، ہر صارف خود بل بنوا سکے گا، اویس لغاری نے صارفین کو بڑی خوشخبری سنادی۔
جرمانوں کی تفصیلات
سی ٹی او ڈاکٹر اظہر وحید نے بتایا کہ موٹر سائیکل کی مختلف وائلیشنز پر 2 ہزار سے 3 ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کئے جائیں گے جبکہ تھری وہیلر گاڑیوں کو بھی اسی حدود میں جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ، 2000 سی سی سے کم کی کاروں اور جیپز پر 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک جبکہ 2000 سی سی سے زیادہ پر 5 ہزار سے 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد ہو گا۔ کمرشل گاڑیوں کے لئے یہ جرمانے 10 ہزار سے 20 ہزار روپے تک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے وسطی علاقوں میں جنگلاتی خوفناک آگ بھڑک اٹھی، یروشلم اور تل ابیب ہائی الرٹ، ہنگامی انخلا کے احکامات جاری
لائسنس کی معطلی اور اضافی جرائم
سی ٹی او لاہور نے بتایا کہ ہر ٹریفک وائلیشن پر پوائنٹ کی کٹوتی کی جائے گی۔ ایک سال میں 20 پوائنٹس کٹ جانے پر لائسنس 6 ماہ کیلئے معطل ہو جائے گا۔ بغیر ڈرائیونگ لائسنس ڈرائیونگ کرنے اور ون وے وائلیشن پر ایف آئی آر درج ہو گی، جس پر 6 ماہ کی قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے۔
کم عمر ڈرائیورز کی مدد کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی، اور ایسے معاملات میں بھی 6 ماہ کی قید یا جرمانہ ہوسکتا ہے کہ گاڑی کی ساخت میں تبدیلی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے جدہ جانے والے طیارے کے انجن میں آگ لگ گئی، ہنگامی لینڈنگ
فٹنس سرٹیفکیٹ کی عدم موجودگی
بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر بھی قانونی کاروائی کی جائے گی، جس کی سزا 6 ماہ تک قید یا جرمانہ ہو گا۔ گاڑیوں کی باڈی کی حد سے زیادہ پھیلانے پر بھی مقدمات درج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبعلم نے اہم ترین امتحان کو چھوڑ کر اپنے کلاس کے دوست کی زندگی بچالی
سیکورٹی خدشات اور قانون کی پاسداری
سیاہ شیشوں والی گاڑیوں پر بھی مقدمات درج ہوں گے جن کی سزا 6 ماہ تک قید یا جرمانہ کے طور پر ہو سکتی ہے۔ ویسے ہی، تھری وہیل گاڑیوں کے ڈرائیورز کیلئے ہیلمٹ کا استعمال لازمی ہوگا۔
ٹریفک قوانین کی بالادستی
سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں کہ وہ شہریوں کو نئے جرمانوں اور خلاف ورزیوں کے بارے میں آگاہ کریں۔ معاشرتی استحکام کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے لینا ضروری ہوتا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ شہری ٹریفک پولیس لاہور کے ساتھ تعاون کریں گے اور قانونی تبدیلیوں کے بارے میں مزید معلومات کے لئے ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا کا سہارا لیں گے۔








