قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ڈی مائننگ کا عمل شروع، اب تک کتنا علاقہ کلیئر ہو چکا؟ جانیے
ڈی مائننگ کا عمل جاری
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر ڈی مائننگ کا عمل جاری ہے۔ اس حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے اہم تفصیلات فراہم کی ہیں جو بتاتی ہیں کہ اب تک کتنا علاقہ کلیئر ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر سائیکل رکشے بنانے والی کمپنیوں کو بند کردینا چاہئے، 3 ماہ میں ریگولیٹ ہونے کا وقت دیں، لاہور ہائیکورٹ
بارودی مواد کی تلفی
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے قبائلی علاقوں میں خوارج کے چھوڑے گئے بارودی مواد اور سرنگوں کے تلف کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ جنگی کارروائیوں کے دوران، خیبر پختونخوا میں خوارج نے وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھائیں تاکہ سیکیورٹی فورسز کا راستہ روکا جا سکے۔ انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں ڈی مائننگ کا عمل شروع کیا۔ افواجِ پاکستان کے بہادر جوان اپنی جانوں کی بازی لگا کر علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غیر معمولی سیلاب کے باعث بیماریوں کا پھیلاؤ، قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کردی
علاقے کی کلیئرنگ کی تفصیلات
سیکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں کل 114 مربع کلومیٹر علاقے میں بارودی مواد اور سرنگوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اب تک 82 مربع کلومیٹر علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کیا جا چکا ہے۔ باقی ماندہ علاقے کی ڈی مائننگ پر شب و روز کام جاری ہے۔ اس خطرناک عمل کے دوران پاک فوج کے 5 جوان شہید اور 115 جوان معذور ہو چکے ہیں۔ پاک فوج کا مقصد عوام کو حادثات سے محفوظ رکھنا ہے، کیونکہ اکثر علاقے کے بچے اور نوجوان نادانستگی میں بارودی مواد سے کھیلتے ہوئے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
حالیہ حادثات کی اطلاعات
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 26 نومبر کو باجوڑ کی تحصیل خار کے گاؤں جنت شاہ میں 2 نوجوان خوارج کے چھوڑے گئے بارودی مواد کے پھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ لکی مروت اور کئی دیگر علاقوں میں بھی ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں۔








