حکومت ناکام، عدلیہ پر سوالات
حکومت کی ناکامی پر شاہد خاقان عباسی کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عوام پاکستان پارٹی کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت گورننس اور کرپشن کنٹرول میں ناکام ہو چکی ہے، آئی ایم ایف رپورٹ میں عدلیہ پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ حکومت نے رپورٹ عوام سے چھپائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ دبئی کا سفر کر رہے ہیں؟ یہاں وہ سب کچھ ہے جو آپ کو چوفیر سروسز کے بارے میں جاننا چاہیے
معاشی صورتحال اور آئی ایم ایف کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں پارٹی رہنما مفتاح اسماعیل کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال اور کرپشن کے حوالے سے آئی ایم ایف نے رپورٹ شائع کی ہے، جس میں ان باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جو ملک کی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پروازوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود تاحال بند، 18 روز میں ایئر لائنز کو 400 کروڑ انڈین روپے کا نقصان
حکومت کی شفافیت پر سوالات
انہوں نے کہا کہ یہ انہی باتوں کا نچوڑ ہے جو ہم باتیں ہم کافی عرصے سے کر رہے ہیں ۔ آئی ایم ایف رپورٹ میں کوئی نئی باتیں نہیں تھیں۔ حکومت گورننس کو بہتر نہیں کر سکی نہ ہی کرپشن کو کنٹرول کر سکی ہے۔ آئی ایم کی رپورٹ میں عدلیہ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کو ہمیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ گاڑियों کے شوروم مالک کا فراڈ، حیران کن انکشاف کر دیا
بےروزگاری اور معیشت کا حال
شاہد خاقان عباسی نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے کیوں عوام سے یہ رپورٹ چھپائی؟۔ یہ رپورٹ عوام کے سامنے پہلے ہی 6 ماہ بعد آئی ہے۔ ملک میں اس وقت بےروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی شرح 7.1 فیصد ہوگئی ہے۔ اس وقت نوجوان ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا رہے ہیں۔ معیشت کے حوالے سے کوئی ریفارمز بھی نہیں ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بدصورتی اور نحوست کی علامت ہے، مشی خان کا لابوبو گڑیا پر سخت ردعمل
کرپشن اور احتساب کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ صرف وفاقی حکومت کے حوالے سے ہے جب کہ صوبوں کی حکومت کو بھی شامل کریں گے تو کرپشن کی رقم بڑھ جائے گی۔ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ حکومت ان خرابیوں کو دور کرنے سے کیوں قاصر ہے؟۔ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ کرپشن پر کنٹرول نہیں کریں گے تو یہ معاملہ معیشت پر اثر انداز ہوگا۔ ریفارم نہیں کریں گے تو معیشت ترقی نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی عائد
رول آف لا اور احتساب
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں خاص طور پر رول آف لا کی بات کی گئی ہے۔ عدلیہ کی پرفامنس پر بہت سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ہر حکومت وقت کے ساتھ ریفامز لے کر آتی ہے۔ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ احتساب کا نظام ہی ناکام ہے۔ ملک کے معاملات میں سب کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پاکستان میں ڈائیلاگ کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔ احتساب سب کا ہونا چاہیے ۔ آپ ملک چلائیں گے یا احتساب کرتے رہیں گے؟۔
سیاسی رہنما میاں نواز شریف اور آئینی مسائل
انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف سیاسی رہنما ہیں، ان کی مرضی ہے جو بات کریں ۔ جو پاکستان کے مفاد کی بات کرے گا ہم اس سے بات کریں گے۔ آئینی ترمیم میں پاکستان کے عوام یا ملک کا کوئی مفاد نہیں ہے۔ مجھے سارا پاکستان عزیز ہے۔ آئین کے لیے جو کام کرے گا ہم اس کے ساتھ ہیں ۔ ہمارا مقصد بالکل واضح ہے کہ ملک آئین کے بغیر نہیں چل سکتا۔








