پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دے دیا
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم دے دیا اور سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال کر کے غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کی بھی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی مفاد کی پہلی درخواست آئینی عدالت میں دائر
کیس کی سماعت
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد شیئر کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ وکیل درخواست گذار نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد شئر ہوتا ہے، ٹک ٹاک لائیو گیم میں غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکات ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عرب شہری کی ملازمہ کے ساتھ شرمناک حرکت، عدالت نے سخت سزا سنادی
پی ٹی اے کی طرف سے جواب
پی ٹی اے کے وکیل نے کہا کہ پی ٹی اے غیر قانونی مواد کو بلاک کرتی ہے جبکہ غیر اخلاقی مواد کی شکایات کے لئے پورٹل بنائے گئے ہیں۔
عدالتی احکامات
دو رکنی بنچ پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد ہٹانے اور سوشل میڈیا اتھارٹی کو فعال کرنے کا حکم دیا۔








