لاہور ہائی کورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی۔
لاہور ہائیکورٹ کی سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) سموگ تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی پر رپورٹ طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ سیمی خان پر پروڈیوسر ندیم بھٹی نے ایف آئی آر درج کرا دی
درختوں کی کٹائی کی رپورٹ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق دوران سماعت ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ناصر باغ میں درخت کاٹے جارہے ہیں، اس پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ بار بار کہنے کے باوجود درخت کیسے کٹ جاتے ہیں، حکومت بھی کہہ رہی ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے، ناصر باغ کے قریب درخت کاٹے جارہے ہیں یہ کیا معاملہ ہے؟
یہ بھی پڑھیں: جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس سماعت کے لیے مقرر
وکلاء کی وضاحت
وکیل ایل ڈی اے نے کہا کہ کوئی درخت نہیں کاٹے جا رہے، وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ ہمارا سختی سے حکم ہے کوئی درخت نہیں کاٹا جائے گا، وکیل ایل ڈی اے نے مزید کہا کہ ناصر باغ میں زیر زمین پارکنگ بنا رہے ہیں، وکلاء کے لئے پارکنگ ایریا بنا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 1965 میں پاک بحریہ کی وہ کارروائی جس نے بھارتی آبی فوج کے اوسان ہی خطا کردیے تھے
عدالتی ہدایت
جسٹس شاہد کریم نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ہدایت کی کہ ناصر باغ کا دورہِ کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کریں، مجھے جو تصاویر ملی ہیں اس میں تو درخت کاٹے ہوئے ہیں، ناصر باغ کی بڑی تاریخی حیثیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیزہ شاہ نے رمضان المبارک میں اپنی زندگی میں تبدیلی کا اہم اعلان کردیا
پانی کے میٹرز کا استفسار
عدالت نے استفسار کیا کہ پانی کے میٹرز کا کیا بنا ہے، وکیل واسا نے بتایا کہ واسا نے اب تک 1300 میٹر خریدے ہیں، جوہر ٹاؤن میں260 میٹرز لگائے جا چکے ہیں، عدالت نے پوچھا کہ یہ میٹرز کہاں سے خریدے گئے ہیں؟ وکیل نے بتایا کہ یہ سب امپورٹڈ میٹرز ہیں، ہم نے اپنے سورسز سے پانچ سو ملین کا فنڈ واٹر میٹرز کے لیے مختص کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے بھارتی وزیر اعظم کے دوست کو اہم عہدے پر نامزد کر دیا
تعمیراتی کاموں کی پابندی
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پارکس میں تعمیراتی کام نہیں ہونا چاہئے، تعمیراتی کام کبھی بھی ماحول دوست نہیں ہو سکتا، عدالت نے سماعت آئندہ ہفتہ تک ملتوی کر دی۔
خلاصہ
عدالت نے لاہور میں پانی کی سطح کی رپورٹ جمع کروانے کا بھی حکم دیا اور اس بات پر زور دیا کہ کمرشل جگہوں پر پہلے واٹر میٹرز لگائے جائیں۔ اس کے علاوہ، جی ایچ اے نے اس معاملے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے۔








