سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے بدعنوان اور کرپٹ افسران کو ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ
سینیٹ ذیلی کمیٹی کا اجلاس
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے افسران کو بدعنوانی اور کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر ڈی چوک میں لٹکانے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا شیخ حسینہ بھارت سے دوبارہ بنگلہ دیش کی سیاست میں سرگرم ہو رہی ہیں؟
اجلاس کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق سینیٹر کامل علی آغا کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں سیکریٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے شریک نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا واقعی ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر نے ٹرمپ کے قتل کی کال دی؟ 8647 کے میسج کا کیا مطلب ہے؟
این ایچ اے حکام کی رپورٹ
اجلاس میں این ایچ اے حکام نے بتایا کہ کیرج 3 منصوبہ بلیک لسٹ کمپنی کو دیا گیا ہے اور اس حوالے سے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر نو منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کے پیش نظر چیئرمین این ایچ اے کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 60 لوگوں نے مجھے مارا لیکن معاف کرنے کا لفظ بھی میرے منہ سے نہیں نکلا اور آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا
سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا استفسار
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے پوچھا کہ این ایچ اے نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کو کیا لکھا ہے، اور انہیں اے ڈی بی کے ساتھ خط و کتابت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ این ایچ اے حکام نے جواب دیا کہ اے ڈی بی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور نیا کنٹریکٹ دینے کا کہہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سندھ روزِ اول سے تاجروں کے ساتھ کھڑی ہے، کچھ عناصر سانحہ گل پلازہ کو سیاسی فائدے کے لیے کیش کروانا چاہتے ہیں، شرجیل میمن
بدعنوانی کے الزامات
سینیٹر ابڑو نے کہا کہ کمیٹی کے ساتھ غلط بیانی کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نا اہل کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹر روکیورمنٹ این ایچ اے کو برطرف کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کا انکشاف
کمیٹی کی اگلی کارروائی
انہوں نے زور دیا کہ کمیٹی کے ارکان این ایچ اے کے خلاف پریس کانفرنس کریں گے اور کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر این ایچ اے سکھر لوگوں سے کمیشن مانگ رہے ہیں۔ سینیٹر ضمیر گھومرو نے بھی بدعنوانیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ اے ایک ہنگامی حالت میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران باغیوں کو پھانسیاں دی جاتی تھیں اور لاشوں کو لٹکتا چھوڑدیا جاتا تھا
مستقبل کے اقدامات
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ نئے چیئرمین این ایچ اے کو کرپٹ مافیا کے خلاف ایکشن لینا ہوگا، اور مزید یہ کہ اگرچہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ خط و کتابت میں کوتاہی ہو رہی ہے، لیکن ہمیں شفافیت کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: زرمبادلہ ذخائر 38 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
ایک اور منصوبے کی بدعنوانی
سینیٹر ابڑو نے ایم-5 کی تعمیر نو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس منصوبے کا ٹھیکہ بھی بلیک لسٹ کمپنی نے حاصل کیا تھا۔
خاتمے کی سفارش
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے یہ سفارش کی کہ این ایچ اے کو پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کی طرح بند کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو وزیراعظم کے پاس کمیٹی ارکان کا وفد لے جا کر این ایچ اے کی بندش کی سفارش کریں گے۔








