میں اس قیدی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں، جس کے ساتھ کوئی ملاقات کرنا ہی نہیں چاہتا، سینیٹر ایمل ولی خان
ایمل ولی خان کا اظہار یکجہتی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی اور سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ میں اس قیدی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی ملاقات کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ باہر نکلے مگر اس کے اپنے ہی ساتھیوں کی خواہش ہے کہ وہ اندر ہی رہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکر گڑھ میں خواتین اور بچوں سمیت 20 سے 25 افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے
قیدیوں کے حقوق اور ملاقاتیں
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر قیدی کا حق ہے کہ اس کے ساتھ ملاقات کی جائے۔ خاندان، وکلاء اور ساتھیوں کی ملاقات ہونی چاہیئے مگر ملاقات جلوسوں میں نہیں ہوتے۔ پچھلے دو سالوں میں ایسا کیا تھا کہ بیرسٹر سیف اور علی امین کے ساتھ ملاقاتیں ہوجاتی تھیں، ابھی نہیں ہورہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین سے 100 جدید ترین الیکٹرک بسیں پاکستان کے لیے روانہ
محمود خان اچکزئی کے بیان پر تنقید
ایمل ولی خان نے مزید کہا کہ محمود خان اچکزئی میرے بزرگ ہیں، ایسی عمر میں ایسی باتیں ہوجاتی ہیں۔ ایسے بیانات کی بجائے وہ وضاحت کریں کہ کیا آج بھی وہ قیدی 804 کی سیاست کررہے ہیں؟ پیکا ایکٹ کے بعد صحافت بالکل محصور ہے۔ صحافت کو بالکل آزاد ہونا چاہیئے۔ یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ آپ کو کسی صحافی کی کوئی بات بری لگے اور آپ اس کو اغواء کرلیں۔
پی ٹی آئی کی پوزیشن اور جیلوں کے باہر حالات
پی ٹی آئی کے پیچھے سے فوج ہٹ جائے، یہ دھڑم کر کے گر جائیں گے۔ جیلوں کے باہر جو ہورہا ہے یہ سب ڈرامے ہیں۔
میں اس قیدی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں جس کے ساتھ کوئی ملاقات کرنا ہی نہیں چاہتا۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ باہر نکلے مگر اس کے اپنے ہی ساتھیوں کی خواہش ہے کہ وہ اندر ہی رہے۔ ہر قیدی کا حق ہے کہ اس کے ساتھ ملاقات کی جائے۔ خاندان، وکلاء اور ساتھیوں کی ملاقات ہونی چاہیئے مگر ملاقات… pic.twitter.com/xUDOtzTEEX
— Awami National Party (@ANPMarkaz) November 28, 2025








