ٹریفک پولیس کو آخری موقع ہے، کارکردگی نہ دکھائی تو۔۔۔؟ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے وارننگ دیدی
وزیراعلیٰ پنجاب کا ٹریفک کی صورتِ حال میں بہتری کے لیے اعلان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں ٹریفک کی صورتِ حال میں بہتری کے لیے 30 دن کی ڈیڈ لائن دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف 19 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے
اجلاس کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اجلاس میں ٹریفک کے جدید نظام کی منصوبہ بندی، روڈ سیفٹی اور نظم و نسق پر بریفنگ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ پر ایرانی میزائل حملے کے الزام کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں، ایرانی صدر کی ترک ہم منصب سے گفتگو
30 دن کی ڈیڈ لائن
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ لاہور میں ٹریفک کی صورتحال میں بہتری کے لیے 30 دن کی فیصلہ کن ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا 168 نامکمل ترقیاتی منصوبے بند کرنے کا فیصلہ
ٹریفک ایکٹ میں اصلاحات
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 60 سالہ پرانے ٹریفک ایکٹ میں 20 بڑی اصلاحات کی گئی ہیں۔ اب پنجاب میں اگر کسی گاڑی کا بار بار چالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھی بھاری جرمانہ ہوگا۔ پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کے لیے 30 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ای اے بلوورڈ ٹاور قسطوں پر اپارٹمنٹس اور ماہانہ انسٹالمنٹ صرف 15 ہزار روپے
قوانین کی سختی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ لاہور سمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر کرنا ضروری ہے۔ کوئی امتیاز نہیں رکھا جائے گا۔ خلاف ورزی پر ہر شخص کو جرمانہ دینا پڑے گا۔ ٹریفک پولیس کو آخری موقع دیا گیا ہے، اگر کارکردگی نہیں دکھائی گئی تو نیا ڈپارٹمنٹ بنانا پڑے گا۔ ہر چیز ٹھیک کی گئی مگر ٹریفک کی حالت خراب ہے۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی حدود کی بندش کے باوجود ایران کے مزید 3 طیارے مسقط پہنچ گئے
کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن کریک ڈاؤن ہوگا۔ انڈر ایج ڈرائیونگ کی صورت میں گاڑی کے مالک کو 6 ماہ تک قید بھی ہوسکتی ہے۔ بس کی چھت پر سواریاں بٹھانے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن ہوگا۔
ماڈل سڑکوں پر پابندیاں
اجلاس میں کہا گیا کہ لاہور کی 5 ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ میرج ہال کو پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا، مناسب پارکنگ نہ ہونے کی صورت میں میرج ہال بھی نہیں ہوگا۔








