پی ٹی آئی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، عقیل ملک
وزیر مملکت برائے قانون کی گفتگو
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت جیل میں سیاسی نوعیت کی ملاقاتیں کرنا چاہتی ہے، جبکہ عمران خان سے ملنے آنے والی ان کی فیملی بھی سیاسی معاملات ہی پر گفتگو کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خبردار ۔۔۔ ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی مہنگائی کی کسی بھی کوشش کیخلاف سخت کارروائی ہو گی: عظمیٰ بخاری
ملاقاتوں کا طریقہ کار
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ملاقاتیں کسی کی خواہش کے مطابق طے نہیں ہوتیں؛ یہ مکمل طور پر جیل سپرنٹنڈنٹ کے اختیار اور جیل مینول کے اصولوں کے تحت ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان کی مہنگی ترین سفید اسٹرابیری وائٹ جیول کے بعد چین کی بلیک پرل اسٹرابیری نے پھلوں کی مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا
ماضی کے تجربات
عقیل ملک کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں سے متعلق ہر قدم پریزن رولز کے مطابق اٹھایا جاتا ہے۔ ماضی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شاہد خاقان عباسی کو 9 ماہ تک کسی سے ملنے نہیں دیا گیا، نواز شریف کی بھی تین ہفتوں تک ملاقاتیں بند رہیں، اور ملاقات کے دوران ان سے کوئی سیاسی گفتگو نہیں کی جاتی تھی۔
جیل میں قیدیوں کی صورتحال
انہوں نے مزید کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔ اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر 804 ہی نہیں، سینکڑوں دیگر قیدی بھی موجود ہیں اور انتظامیہ کو سب کی سکیورٹی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔








