بھارت، دوسری شادی پر پابندی کا بل منظور، 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا
بھارتی ریاست آسام میں متنازع قانون کی منظوری
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا جسے مسلم دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 25 اکتوبر تک آئینی ترمیم: نہ ضروری، نہ مجبوری – بلاول بھٹو
قانون کی تفصیلات
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں اس قانون کی منظوری کے بعد ایک سے زائد شادی (پولیگمی) کو جرم قرار دیدیا گیا۔ جس کے تحت پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر 7 سال قید ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر پہلی بیوی سے اجازت نہ لی گئی تو سزا میں اضافہ ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جشنِ وسیب:محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے ملتان میں ثقافتی جشن کا شاندار انعقاد
سزا اور پابندیاں
اسی طرح، پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر 10 سال قید ہوسکتی ہے، اور بار بار یہ جرم کرنے پر سزا دوگنا ہوجائے گی۔ دوسری شادی کرنے اور کروانے والوں کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
معاونت فراہم کرنے والوں کی سزا
دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والوں، جیسے کہ گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست کو بھی 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔ علاوہ ازیں، اس بل میں غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی بھی شق شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کے لیے پاکستانی قونصلہ جنرل کا دبئی میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے کا دورہ، تاثرات درج کیے۔
وزیر اعلیٰ کا بیان
بل کی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ نے بتایا کہ یہ قانون اسلام مخالف نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ازدواجی ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
بین الاقوامی تناظر
انھوں نے مثال دی کہ دیگر ممالک جیسے ترکیہ نے بھی دوسری شادی پر پابندی عائد کی ہے۔ اس قانون کو ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں یا کمیونٹیز میں جہاں دوسری شادی کی مذہباً یا روایتاً اجازت ہے۔ مخصوص قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں سمیت چند طبقات کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے۔








