بھارت، دوسری شادی پر پابندی کا بل منظور، 10 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا
بھارتی ریاست آسام میں متنازع قانون کی منظوری
نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست آسام کی اسمبلی نے ایک متنازع قانون منظور کرلیا جسے مسلم دشمنی پر مبنی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس؛ثنا یوسف کی والدہ بتائیں کیا پولیس کی کارروائی سے مطمئن ہیں؟عرفان صدیقی کے سوال پر مقتولہ کی والدہ نے بتا دیا
قانون کی تفصیلات
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست آسام میں اس قانون کی منظوری کے بعد ایک سے زائد شادی (پولیگمی) کو جرم قرار دیدیا گیا۔ جس کے تحت پہلی شادی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنے پر 7 سال قید ہوسکتی ہے۔ تاہم اگر پہلی بیوی سے اجازت نہ لی گئی تو سزا میں اضافہ ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ جو ایران میں بیشتر فیصلے کرتے تھے اب مارے جاچکے ہیں” :امریکی صدر کا ایران پر حملوں کے بعد پہلا خطاب
سزا اور پابندیاں
اسی طرح، پہلی شادی کو چھپا کر دوسری شادی کرنے پر 10 سال قید ہوسکتی ہے، اور بار بار یہ جرم کرنے پر سزا دوگنا ہوجائے گی۔ دوسری شادی کرنے اور کروانے والوں کو سرکاری نوکری یا مقامی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: عاقب بال نے بیز بال کا مقابلہ کر دیا
معاونت فراہم کرنے والوں کی سزا
دوسری شادی کروانے یا اس میں معاونت دینے والوں، جیسے کہ گاؤں کے سرپنچ، مذہبی پیشوا، والدین یا سرپرست کو بھی 2 سال قید اور ایک لاکھ روپے سے ڈیڑھ لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔ علاوہ ازیں، اس بل میں غیر قانونی شادی کی شکار خواتین کو معاوضہ اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی بھی شق شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت میں اہم پیشرفت، 4 عینی شاہدین نے بیانات قلمبند کرا دیئے، کیا کچھ کہا۔۔۔؟ جانیے
وزیر اعلیٰ کا بیان
بل کی منظوری کے بعد وزیراعلیٰ نے بتایا کہ یہ قانون اسلام مخالف نہیں بلکہ پورے معاشرے میں ازدواجی ذمہ داری اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
بین الاقوامی تناظر
انھوں نے مثال دی کہ دیگر ممالک جیسے ترکیہ نے بھی دوسری شادی پر پابندی عائد کی ہے۔ اس قانون کو ذاتی آزادی اور مذہبی روایات پر قدغن سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں یا کمیونٹیز میں جہاں دوسری شادی کی مذہباً یا روایتاً اجازت ہے۔ مخصوص قبائل، نسل اور خود مختار علاقوں سمیت چند طبقات کو اس قانون سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے۔








