افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
دہشتگردوں کا خاتمہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائب) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اعلان کیا کہ رواں سال ملک میں مجموعی طور پر 1873 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی قومی سانحہ، تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچیں گے، رانا تنویر حسین
قومی سلامتی پر گفتگو
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے مطابق، 25 نومبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے سینئر صحافیوں کے ساتھ ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کا فٹنس انسٹرکٹر شامل تفتیش، کیس کی 4 پہلوؤں سے تحقیقات
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز
جنرل چوہدری نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں 67023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ خیبرپختونخوا میں 12857 اور صوبہ بلوچستان میں 53309 انٹیلی جنس بیسڈ ایپسپرنٹس کیے گئے۔
4 نومبر 2025 سے اب تک دہشتگردی کے خلاف 4910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن کے دوران 206 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت طلال چودھری سے مفتی منیب الرحمن کی اہم ملاقات
بارڈر مینجمنٹ کے مسائل
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے بارڈر مینجمنٹ پر گمراہ کن پروپیگنڈا کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، جس کی کل لمبائی 1229 کلومیٹر ہے۔
جنرل چوہدری نے وضاحت کی کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: پیشی پر عدالت جانیوالے باپ اور دو بیٹوں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا
سیکورٹی کے چیلنجز
انہوں نے بتایا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کے حوالے سے افغان طالبان مکمل سہولت فراہم کرتے ہیں۔
اگر سرحد پار سے دہشتگردوں کی تشکیلیں یا اسمگلنگ ہو رہی ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں روکیں۔
یہ بھی پڑھیں: سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم منظور، افسران پر اپنے و اہل خانہ کے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قراردیدیا گیا
دوحا معاہدے کا مؤقف
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوحا معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف واضح کیا کہ افغان طالبان کو دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کرنی چاہیے۔
افغانستان میں دہشتگردوں کے مراکز کی رپورٹنگ اور ان کی قیادت کی موجودگی کے بارے میں بھی معلومات فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخاب: کیا مسلمان ووٹرز اگلے صدر کا انتخاب کریں گے؟-1
افغان طالبان کے طرز عمل پر سوالات
جنرل چوہدری نے کہا کہ طالبان رجیم نے نان اسٹیٹ ایکٹرز پال رکھا ہے، جو کہ خطے کے مختلف ممالک کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔
دوحا مذاکرات میں افغان طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔
مہاجرین کی واپسی
جنرل چوہدری نے یہ بھی بتایا کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے تحت 2024 میں 366704 افراد کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، اور صرف رواں ماہ یعنی نومبر میں 239574 افراد واپس بھیجے گئے۔








