سٹامپ پیپر کی فیس سرکاری خزانے میں جمع نہ کروانے کا انکشاف
بڑا اسکینڈل: اسٹامپ پیپر کی فیس کی خورد برد
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسٹامپ پیپر کی فیس سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے پر بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ فیڈرل ٹریئری آفس کے 71 افسران اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جن پر دو سال کے دوران انتیس کروڑ روپے خورد برد کرنے کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی عدالت کی جانب سے حسن نواز کی کمپنی کو دیوالیہ قرار دینے پر ترجمان نواز شریف خاندان کا رد عمل
ایف آئی اے کی کارروائی
ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے سرکاری فیس خزانے میں جمع نہ کرانے پر وفاقی دفتر خزانہ کے اکہتر افسران اور اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ملزمان نے مالی فائدے کے لیے سرکاری عہدوں کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر اسٹامپ پیپرز جاری کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
مالی نقصان کا تخمینہ
انہوں نے اسٹامپ پیپر کی فیس، کورٹ فیس، اور غیر ملکی بلز وفاقی خزانے میں جمع نہیں کروائے تھے، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا بھاری نقصان ہوا۔
آڈٹ اور گرفتاری کی اطلاع
وفاقی دفتر خزانہ میں ہونے والے اصل نقصان کا تعین گزشتہ دس سال کے فرانزک آڈٹ کی تکمیل کے بعد کیا جائے گا۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے گزشتہ رات چھاپہ مار کر بیس ملزمان کو گرفتار کیا۔








