جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے‘‘لاہور ہائیکورٹ جسٹس جواد حسن کا خطاب
لاہور ہائیکورٹ کے جج کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ جج کو اسٹریس لینا نہیں، بلکہ اسٹریس دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ کو خالی اور شام کو تقسیم کرنے تک جنگ نہیں رکے گی، اسرائیلی وزیر خزانہ کا اعلان
عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس
لاہور جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کے موضوع پر تقریب ہوئی، جس میں جسٹس جواد حسن نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے مشکل کیس کیے، مجھے کبھی اسٹریس نہیں ہوا، اور بہت سے سیاسی کیس بھی آئے مگر میں ہمیشہ مستحکم رہا۔
یہ بھی پڑھیں: بینک فراڈ کیس میں نادیہ حسین کے شوہر کی ضمانت کا معاملہ لٹک گیا
ججز کی کارکردگی اور کورسز کی اہمیت
جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ جج کو اسٹریس لینا نہیں، بلکہ اسٹریس دینا چاہیے۔ جج کو کورٹ ہینڈلنگ اور اس کے فیصلوں سے پرکھا جاتا ہے، لہذا تمام کورسز نئے آنے والے ججز کے لیے بہت ضروری ہیں۔
عدالتوں میں کیسز کا جائزہ
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں 60 فیصد کیسز غلط آتے ہیں، اور ہمیں وہ کورسز کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا میں کیے جا رہے ہیں۔ ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد فیملی کیسز آتے ہیں، اور ہر جج پہلی سماعت پر کیس خارج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔








