والدین نے پیسوں کے لیے ناچنے پر مجبور کیا، بھارتی اداکارہ جیا بھٹاچاریہ کا انکشاف
اداکاری کا شوق نہ ہونے کا انکشاف
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی اداکارہ جیا بھٹا چاریہ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اداکاری کا کوئی شوق نہیں تھا، والدین نے انہیں ناچنے پر مجبور کیا جب کہ شوبز انڈسٹری میں انہوں نے کاسٹنگ کاؤچ کا بھی سامنا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: طلائی زیورات پہنے لڑکی کی تشدد زدہ لاش برآمد
مشکلات بھرا بچپن
جیا بھٹاچاریہ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کا بچپن بہت مشکل تھا، اپنے والدین کی خراب شادی کی شکار ہوئیں اور یہ کہ اپنی ماں کے ہاتھوں جسمانی تشدد کا شکار بھی ہوئیں۔ بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق سدھارتھ کانن سے گفتگو میں جیا بھٹاچاریہ نے بتایا کہ لڑکی کے طور پر پیدا ہونا ان کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین ایک دوسرے سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ آپس میں نہیں جڑے اور ان کا تنازع بچوں تک پہنچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر کے پی اسمبلی کا سہیل آفریدی کو عمران خان سے مشورہ کیے بغیر کابینہ بنانے کا مشورہ
تشدد کا سامنا
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق ان کی والدہ شادی سے خوش نہیں تھیں؛ ان کے خواب پورے نہ ہوئے، اس لیے انہوں نے انہیں جو کچھ دیا وہ نامکمل تھا۔ والدہ انہیں ہنٹر، بیلن، چمچوں، جوتوں اور دیگر اشیاء سے مارتی تھیں۔ اداکارہ کے مطابق بچپن میں انہیں بہت پیٹا گیا، ان کا بچپن تشدد میں گزرا، جس وجہ سے انہیں خود سے بھی نفرت ہوگئی اور انہوں نے متعدد بار خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ
خاندانی تعلقات
اداکارہ نے یہ بھی بتایا کہ ان کا والد سے گہرا لگاؤ تھا، تاہم ان کی ماں کے خلاف نفرت بالغ ہونے تک جاری رہی، جس وجہ سے وہ والدہ کی قدر بھی نہیں کرتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ملک ظہیر اقبال چنڑ کی ملاقات
اداکاری کا آغاز
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق اداکاری میں آنا ان کی منصوبہ بندی نہیں تھی، والدہ نے انہیں اداکاری کی طرف دھکیلا، وہ ناچتی تھیں اور موسیقی کی تربیت لے رہی تھی۔ ان کا کہنا تھاکہ ایک بار انہیں ٹیلی فلم میں کام کرنے کی پیش کش ہوئی، ڈائریکٹر نے ان کے والد سے بات کی اور پہلے انہیں عورت کے طور پر ناچنے کو کہا، پھر مرد کے کردار کو ادا کرنے کا بھی کہا، شوٹ تین دن بعد ہونا تھا لیکن والد نے اگلے دن ہی صبح 5 بجے شوٹنگ سیٹ پر پہنچا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اور اس کے احتجاج میں اب کوئی دم خم نہیں رہا، وہ وکلا کی آڑ میں باہر نکلنا چاہتے ہیں، سینئر صحافی سلمان غنی
بے اردادی کا کیریئر
اداکارہ نے کہا کہ وہ یہ نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن والد انہیں وہاں لے گئے، یوں نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی اداکاری کا کیریئر شروع ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکہ، سری لنکا کے 8 کھلاڑیوں کا وطن واپسی کا فیصلہ
کاسٹنگ کاؤچ کا خوفناک تجربہ
اداکارہ نے انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ کا خوفناک تجربہ بھی شیئر کیا اور بتایا کہ پہلی ٹیلی فلم کے بعد ڈائریکٹر اپنے ایک دوست کے ساتھ ان کے گھر آکر انہیں بار لے جانے کے لیے آیا، جس پر والدہ ٹالتی رہیں لیکن ہدایت کار ضدی تھا، اس لیے والدہ نے ان کی بات مان لی۔
ممبئی میں منتقل ہونے کی پیشکش
جیا بھٹاچاریہ کے مطابق ہدایت کار انہیں ریسٹورنٹ لے گئے، اس وقت وہ 17 یا 18 سال کی تھیں، اس کے بعد ہدایت کار کا دوست روز ان کے گھر آتا رہا، انہیں ڈرائیونگ سکھائی اور پھر ممبئی منتقل ہونے کی پیش کش بھی کی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔








