جن مسافروں کے پاس مستند اور مکمل سفری دستاویزات ہوں، انہیں بیرونِ ملک سفر سے نہیں روکا جانا چاہیے، وزیر داخلہ محسن نقوی
وزیرِ داخلہ کا ایئرپورٹ دورہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتہ کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ کے دورے کے بعد کہا ہے کہ جن مسافروں کے پاس مستند اور مکمل سفری دستاویزات ہوں، انہیں بیرونِ ملک سفر سے نہیں روکا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: نارووال کے نواحی گاؤں میں مبینہ پولیس تشدد سے خاتون جاں بحق، تنازع کیا تھا ؟ جانیے
مسافروں کے مسائل کا جائزہ
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند مہینوں میں مختلف ایئرپورٹس پر متعدد مسافروں کو درست سفری کاغذات ہونے کے باوجود پروازوں سے اتارنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ اقدامات گزشتہ سال یونان کشتی حادثے کے بعد انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے سلسلے میں کیے گئے ہیں جس میں متعدد پاکستانی بھی جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ کا راج، بھارتی فضائی آلودگی کے اثرات لاہور پر آرہے ہیں: عظمیٰ بخاری
محسن نقوی کا موقف
سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے پیغام میں محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے اسلام آباد ایئرپورٹ کا دورہ کیا اور بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں سے ان کے مسائل براہِ راست سنے۔ انہوں نے بتایا کہ جعلی ویزوں کے ذریعے معصوم لوگوں کا استحصال کرنے والے ویزا ایجنٹس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے۔ مزید بتایا کہ ایک مسافر کی 7 نومبر کی کم اسٹافنگ سے متعلق شکایت پر سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری انکوائری اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا چیمپیئنز ٹرافی کے لیے پاکستان آنے سے انکار، شیڈول کا اعلان ملتوی
درست دستاویزات کی ضرورت
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جس مسافر کے پاس درست اور مکمل دستاویزات ہوں، اسے کبھی نہیں روکا جانا چاہیے۔ لیکن جعلی یا غیرتصدیق شدہ دستاویزات پر سفر کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ ایسے اقدامات پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لوگوں کے مستقبل سے کھیل کر پیسے کمانے والے ایجنٹ مافیا کے لیے زیرو ٹالرنس ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: جذبۂ خدمت کو سلام، چند دنوں میں 10 ہزار سے زائد افراد نے بطور سول ڈیفنس رضاکار رجسٹریشن کروا لی
ایف آئی اے کی وضاحت
گزشتہ جمعرات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے وضاحت کی تھی کہ مسافروں کو صرف اسی وقت پرواز سے روکا یا بورڈنگ سے منع کیا جا رہا ہے جب ان کے پاس درست دستاویزات نہ ہوں یا جب حکام کو شبہ ہو کہ وہ انسانی اسمگلروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 1857ء کی جنگ آزادی کے دوران باغیوں کو پھانسیاں دی جاتی تھیں اور لاشوں کو لٹکتا چھوڑدیا جاتا تھا
قانونی کارروائیاں
اسی روز ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر مسافروں کے آف لوڈ ہونے سے متعلق من گھڑت معلومات پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی تھی۔
تحقیقات کا آغاز
اسی ماہ کے آغاز میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل رِفعت مختار نے اعتراف کیا تھا کہ لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے اور تحقیقات جاری ہیں۔








