انگریزوں کی طرف سے ورثے میں دی گئی پٹریوں، پلوں اور سگنل کے نظام کو ہم بہتر نہیں کر سکے،درجنوں کے حساب سے برانچ لائنیں بندہو چکی ہیں

مصنف کی معلومات

مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 323

یہ بھی پڑھیں: ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو اسرائیل کو جوابی کارروائی سے نہیں روک سکیں گے: امریکا کی وارننگ

ریل گاڑیوں کے حادثات کے اسباب

سگنل کے نظام کی خرابی کے باعث تیز رفتار گاڑی کا اپنی لائن چھوڑ کر دوسری لائن پر جا کر کسی ٹھہری ہوئی یا آگے جاتی ہوئی گاڑی سے ٹکرا جانا۔
گاڑی کی بریکیں ناکارہ ہو جانا اور گاڑی کو وقت پر نہ روک سکنا، جو سامنے جا کر کسی ریل گاڑی سے ٹکرا جاتی یا اْلٹ جاتی۔
گاڑی کے ڈبوں میں آگ لگ جانا۔
بلندی سے اْترتی ہوئی گاڑی کا بے قابو ہو جانا اور پٹری سے اْتر کر اْلٹ جانا۔
بلندی پر چڑھتی ہوئی گاڑی کا انجن اور بریکیں فیل ہو جانے کی صورت میں نیچے کو پھسل آنا اور پیچھے کھڑی ہوئی کسی گاڑی، پہاڑی یا عمارت سے ٹکرا جانا۔
گاڑی کی پٹری پر خاص طور پر کسی لیول کراسنگ پر اچانک بھاری بھرکم ٹرک یا رکاوٹ کا آ جانا۔
دریا یا نہر کے پل کا کمزور ہونا، جس سے گاڑی کے اْوپر چڑھتے ہی پل کا بیٹھ جانا۔
ڈرائیور کی غفلت یا نیند کی حالت میں ہونے کی وجہ سے کنٹرول کھو دینا۔
ریلی کی پٹری یا گاڑی کو تخریب کاری کے ذریعے بم یا بارودی مواد سے اْڑا دینا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی ایئر پورٹ پر سعودی عرب جانے کی کوشش میں خاتون گرفتار، یہ کون تھی ؟ پتا چل گیا

خطرناک حادثات کی مثال

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اب تک دنیا میں جو سب سے بھیانک ریل گاڑی کا حادثہ ہوا تھا اور جس میں سب سے زیادہ جانیں گئیں وہ ریل گاڑیوں کے ٹکراؤ، پٹری سے اْترنے یا اْلٹنے سے نہیں ہوا تھا، بلکہ 2004ء میں چلتی ہوئی ریل گاڑی سے سونامی یعنی سمندری طوفان کی لہریں آن ٹکرائی تھیں اور سالم گاڑی کو ہی بہا کر لے گئی تھیں۔ اس حادثے میں 1700 لوگ مارے گئے تھے۔ یہ المناک حادثہ سری لنکا میں پیش آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں کی حدود میں ہر قسم کے نجی میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کو فوری بند کرنے کا حکم

ماقبل کے حادثات کا جائزہ

اس سے پہلے روس، اٹلی، سپین، ایتھوپیا اور مصر وغیرہ میں ریل کے مختلف حادثات میں بھی ایک ساتھ 500 سے زیادہ جانیں ضائع ہوئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے سیکیورٹی پروٹوکولز میں اہم تبدیلی کا اعلان، چیف جسٹس کی گاڑیاں 8 سے کم کر کے 2 کردی گئیں

پاکستان میں ریلوے حادثات کی تاریخ

پاکستان ریلوے کی تاریخ بھی حادثات سے بھری پڑی ہے۔ بدقسمتی سے وقت کے ساتھ ساتھ ان حادثات میں کمی واقع ہونے کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔
اس کی بڑی وجہ تو ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ 1861ء سے 1925ء تک انگریزوں کی طرف سے ورثے میں دی گئی ریل کی پٹریوں، پلوں اور سگنل وغیرہ کے نظام کو ہم بہتر نہیں کر سکے، بلکہ اسے قائم بھی نہ رکھ سکے۔ قیام پاکستان کے موقع پر جو ہماری پٹریوں کی طوالت تھی تو آج اس سے کم ہی ہوئی ہیں، بڑھی نہیں۔ درجنوں کے حساب سے برانچ لائنیں بند ہو چکی ہیں، اصولی طور پر تو اب ایسے حادثات کی تعداد میں کمی آنا چاہئے تھی، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ کوئی خاص نئی پٹریاں بھی نہیں بچھائی جا سکیں، تقریباً تمام پل انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور اکثر تو برباد ہو چکے ہیں، حیرت انگیز طور پر سوائے ایوب برج کے پچھلے 60 سال میں ریلوے کا کوئی بھی نیا اور بڑا پل نہیں تعمیر کیا جا سکا۔ پاکستان کا تمام ریلوے نظام خصوصاً سندھ کا تو بہت ہی فرسودہ ہو چکا ہے اور بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...