ایک مظلوم کو بے توقیر شے بنا کر پورا نظام ننگا کر کے رکھ دیا، دکھ اور اداسی کی انتہا، سب سے تگڑے وزیر کے چہرے پربے بسی اور آنکھ میں نمی تھی
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 364
یہ بھی پڑھیں: ٹیلر سوئفٹ نے عملے کو ۱۹ کروڑ ۷۰ لاکھ ڈالر کا بونس دے دیا
بچی کو باپ کا نام دلوانے کی امید
کیا بچی کو اس کے باپ کا نام دلوا سکتے ہیں؟
غربت اور بے بسی انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ میرے ملک کا تو ہر شہری بے بس ہے۔ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ صاحب کو جی او آر (گورنمنٹ افیسرز ریزڈینس) ون میں الاٹ ہوا گھر نمبر 5 ایکمین (Aikman Road) لاہور ہائی کورٹ کی strength پر تھا۔ نئے گھر میں صاحب نے اپنی ضرورت کے مطابق کچھ اضافہ کرایا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شام کی آخری کرنیں، ہلچل اور خاموشی کا منظر
چوہدری الطاف حسین اور شبر رضا کی دوستی
اس دور میں چوہدری الطاف حسین گورنر پنجاب کے بھائی افتخار حسین چوہدری چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تھے جبکہ سید شبر رضا رضوی ایڈوکیٹ جنرل پنجاب۔ دونوں کی بہت گہری یاری تھی۔ ہر اچھائی برائی کے یہ دوست تھے۔ شبر رضا کا چھوٹا بھائی سید عباس رضوی اوکاڑہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نائب ناظم تھا جس نے ایک یتیم بچی کو اغواء کر کے اپنے پاس رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے پاکستانی ماہر خلاباز کا مشن میں شامل ہونے کا اعلان کردیا
ایک بچی کی کہانی
وہ بچی حاملہ ہو گئی اور ایک بچی کو جنم دیا۔ اس بچی اور شبر رضا کے بھائی کے درمیان پھڈا تب شروع ہوا جب وہ نومولود کا نام اندراج کرانے متعلقہ دفتر گئی اور باپ کے نام عباس رضا رضوی درج کرنے کو کہا تو متعلقہ دفتر والوں نے نائب ناظم کا نام سن کر اندراج سے انکار کر دیا۔ بات بڑھی اور بچی کی بڑی بہن لاہور چلی آئی اور گھومتی گھماتی ہمارے دفتر پہنچ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ میں بھی وزیر اعظم شہباز شریف کا روائتی جذباتی انداز، ڈائس پر مکّے برسادیئے۔
تسلی اور اقدام
وہ صاحب سے ملی اور ساری کہانی سنائی۔ آخر میں بولی؛ "کیا آپ اتنے کمزور ہیں کہ معصوم بچی کے باپ کا نام نہیں درج کروا سکتے؟“ اس کہانی نے مجھ سمیت دفتر میں موجود سبھی کو آبدیدہ کر دیا تھا۔ میں نے ذرا جذباتی انداز میں صاحب سے کہا؛ "سر! ہم اگر اتنے ہی بے بس ہیں تو ہمیں یہ وزارت وغیرہ چھوڑ دینی چاہیے۔” صاحب نے مجھے اور اس خاتون کو تسلی دی اور اسے باہر بیٹھنے کو کہا۔
یہ بھی پڑھیں: میڈیا دنیا کی طاقتور آواز ہے: سید ثاقب زبیر
منصفانہ عمل
صاحب کا ہمدرد انسان جاگ اٹھا اور انہوں نے بات کی تہہ تک پہنچنے کی ٹھان لی۔ اس عورت کی شکایت پہلے ہی "سی ایم شکایات سیل" میں درج تھی۔ صاحب نے ہوم سیکرٹری وسیم افضل کو فون کرکے بچی کا "ڈی این اے" کرانے پر بات کی۔ یہ دبنگ افسر تھے اور صاحب کی بات سے متفق ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کو کہیں چھپنے نہیں دیا جائے گا، مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے: محسن نقوی
مشکلات کا سامنا
سی ایم آفس میں درج شکایت منگوائی گئی اور سیکیورٹی کا سوال اٹھایا گیا۔ صاحب نے ایس ایس پی لاہور آفتاب چیمہ سے سیکیورٹی مہیا کرنے کو کہا۔ دو دن بعد اس بچی کا ڈی این اے ہونا تھا۔ اس نائب ناظم کی کر توتوں کی وجہ سے سبھی ضلعی افسران اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے صاحب سے درخواست کی کہ "سر! معاملہ رفع دفع کریں۔" صاحب نے اسے ٹال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیوی کا حق نان نفقہ ازدواجی تعلقات یا رخصتی سے مشروط نہیں: سپریم کورٹ
افسران کی بے بسی
اگلے روز ڈی این اے ہونا تھا۔ میں صبح جلدی دفتر آ گیا اور سب سے coordinate کیا کہ صاحب آ گئے۔ چہرے سے پریشان لگے تھے۔ میں نے پوچھا؛ "سر! خیر ہے؟" انہوں نے بتایا؛ "رات سی ایم کا فون آیا تھا کہ چیف جسٹس نے کسی سے درخواست لے کر اس معاملے پر سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے۔" ایک اور بااثر شخص نے ایک بے بس مظلوم کی بے بسی کو قانون کی نظر میں بے توقیر شے بنا کر پورا نظام ہی ننگا کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چین-لاؤس تعاون کی 20 ویں سالگرہ پر چائنہ جنرل چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام تقریب کا انعقاد
خواب و حقیقت
صوبے کے سب سے تگڑے وزیر کے چہرے پر بے بسی اور آنکھوں میں نمی تھی۔ اس بچی کی بہن دفتر آئی اور کہنے لگی؛ "اوکاڑہ سے تو ابھی وہ لوگ چلے نہیں۔" صاحب نے اسی دکھی دل سے ساری بات بتائی۔ اس کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے تھے۔ آنسو صاحب اور میرے بھی بہہ نکلے تھے البتہ سبھی کے آنسوؤں میں بے بسی کی ایک چیز مشترک تھی۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








