نوجوان وکیل ذیشان شبیر ڈھڈی مبینہ طورپر پولیس کے ہاتھوں قتل
وہاڑی میں نوجوان وکیل کا پولیس کے ہاتھوں قتل
وہاڑی (ویب ڈیسک) وہاڑی سے تعلق رکھنے والا نوجوان وکیل ذیشان شبیر ڈھڈی مبینہ طورپر پولیس کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ مطلوب تھے اور ان کیخلاف منشیات کے مقدمات تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کے لیے بھارت کے پاکستان نہ آنے پر نجم سیٹھی کا رد عمل
پنجاب بار کونسل کا موقف
پنجاب بار کونسل کی جانب سے جاری کردہ مذمتی قرار داد میں بتایا گیا ہے کہ پولیس تھانہ ماچھویال نے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کر کے ذیشان کو قتل کیا۔ بار کونسل نے پولیس کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقتیں چھپانے اور ملوث اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور واقعے کی شفاف انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ اسی سلسلے میں یکم دسمبر کو پنجاب بھر میں ہڑتال کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس، اشتعال انگیزی پر مبنی 271 اکاؤنٹ رپورٹ، 17 افراد گرفتار
میاں دائود ایڈووکیٹ کا بیان
اب میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ "وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ پر 15 کلو ہیروئن کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے والی ریاست کے محکمے کہہ رہے ہیں کہ وہاڑی کے علاقے میں 5 مربع اراضی اور علاقے کے معتبر سیاسی خاندان کا نوجوان وکیل ذیشان شبیر ڈھڈی منشیات فروش تھا، جسے پولیس مقابلے میں شہید کیا گیا۔ اگر وہاڑی کا یہ شہید منشیات فروش تھا تو پھر رانا ثناءاللہ پر بھی منشیات فروشی کا مقدمہ 100 فیصد درست تھا"۔
وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ پر 15 کلو ہیروئن کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے والی ریاست کے محکمے کہہ رہے ہیں کہ وہاڑی کے علاقے میں 5مربع اراضی اور علاقے کے معتبر سیاسی خاندان کا نوجوان وکیل منشیات فروش تھا جسے پولیس مقابلے میں شہید کیا گیا ہے۔ اگر وہاڑی کا یہ شہید وکیل ذیشان ڈھڈی منشیات... https://t.co/tfPmlGqpFr pic.twitter.com/JM2GgYsY3x
— Mian Dawood (@miandawoodadv) November 29, 2025
اہلخانہ کے بیان کی تحقیقات کی ضرورت
انہوں نے مزید لکھا کہ اہلخانہ کے اس موقف کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ مخالفین سے پیسہ لیکر پولیس نے ان کا دوسرا بیٹا قتل کیا ہے۔ صوبے بھر میں ایسی ہی شکایات آ رہی ہیں۔ شہید وکیل ذیشان ڈھڈی کا کریمنل ریکارڈ 10 منٹوں میں تیار کرنا پولیس کا معمول کا حربہ ہے، اس لئے پنجاب بھر کی وکلاء برادری اس کیس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔








