میں بھیک نہیں مانگ سکتا، سکون سے رزق حلال کمانے دو! رکشہ ڈرائیور کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے درخواست
رکشہ ڈرائیور کی دردناک کہانی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) رکشہ چلانے والے ڈرائیور کے گھریلو حالات نے رپورٹر کو بھی آبدید کیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقی وسطیٰ کا سب سے مہنگا پینٹ ہاؤس تقریباً 3.1 ارب پاکستانی روپے میں فروخت ہوگیا
پہلا بیان: مشکلات اور درد
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی لاہور رنگ کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے رکشہ ڈرائیور نے کہا کہ "میں تو کھڑا بھی نہیں ہوسکتا، 5 منٹ کھڑا ہو جاؤں تو درد شروع ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے مجھ سے نماز نہیں پڑھی جاتی۔" اس کا مزید کہنا تھا کہ "میں تو بھیک نہیں مانگ سکتا، اپنی محنت سے کھانے کی عادت ہے، اللہ پاک بڑا غفور و رحیم ہے، وہی رزق حلال دے رہا ہے اور وہی زندگی کی تندرستی دے رہا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے نتنز کو ہی حملے کیلئے کیوں منتخب کیا؟ بی بی سی کا تہلکہ خیز انکشاف
دوسرا بیان: روزمرہ کی مشکلات
ڈرائیور نے مزید کہا کہ "ہمارے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں، میرے والدین وفات پا چکے ہیں، میرے بچے اور بیوی ہیں۔ مریم نواز سے درخواست ہے کہ ہمارا روزگار چلتا رہے۔ اس وقت بھی میرے گھر میں آٹا اور گھی ختم ہے۔ یہ سامان لے کر جا رہا ہوں، یہ اتاروں گا تو پیسے ملیں گے اور شام کو جا کر کچھ پیسے بنتے ہیں تو آٹا، گھی وغیرہ لے جاتا ہوں۔" اس کی باتوں میں دکھ کا احساس تھا جب اس نے کہا کہ "اگر گھر میں ایک وقت کی روٹی نہ جائے تو بچے بولتے ہیں کہ بھوک لگی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ اپنی اہلیہ کو قتل کرکے مقتولہ کے سابق شوہر پر الزام لگانے والا شخص گرفتار
تیسرا بیان: تعلیم اور مستقبل
رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ "میرے تین بچے ہیں جن میں دو لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔ لڑکے کسی دکان پر کام کرتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ سکول بھیجنے کیلئے ہمارے پاس پیسے نہیں۔ سکول والے فیسوں کی عدم ادائیگی پر بچوں کا رزلٹ نہیں دے رہے تھے، گھر کا سامان بیچ کر فیسیں ادا کیں۔ نہم کے داخلے کے لیے پیسے نہیں تھے، بیٹی کو تعلیم چھڑا دی۔"
یہ بھی پڑھیں: بابر اور رضوان نیو ایئر ایک ساتھ منانے کے بعد گراؤنڈ میں ایک دوسرے کے حریف بن گئے
چوتھا بیان: علاج کے مسائل
اس کا کہنا تھا کہ "اس رکشے کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، بجلی اور گیس کا بل اتنا آ جاتا ہے کہ ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اللہ ہی کوئی وسیلہ بنا دیتا ہے۔ پیسے نہیں ہیں، علاج کہاں سے ہوگا؟ بچوں کا پیٹ بھرنا ہے یا علاج کرانا ہے؟ ہسپتال والے بڑے ظالم ہیں، جب ادویات، لیبارٹری ٹیسٹ اور ایکسرے کروانے کا کہتے ہیں تو بندے کو مار ہی دیتے ہیں۔ اگر یہ رکشے بند ہو جاتا ہے تو اس کے بعد فاقے ہیں اور کچھ بھی نہیں۔"








