دو نوجوانوں نے حریم فاروق کو کیسے بچایا؟ اداکارہ نے اپنے بچپن کا واقعہ سنادیا
حریم فاروق کا بچپن کا حیران کن واقعہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف اداکارہ حریم فاروق نے اپنے بچپن کا حیران کن واقعہ بیان کردیا جس میں وہ ناراض ہوکر گھر سے نکل گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک دھماکہ کرنے والے خودکش حملہ آور کا سر مل گیا، ہلاکتوں کی تعداد بڑھ گئی
گھر سے نکلنے کی کہانی
نجی ٹی وی کے کامیڈی شو میں گفتگو کرتے ہوئے حریم فاروق نے بتایا کہ وہ آٹھ سال کی عمر میں بغیر بتائے گھر سے نکل گئی تھیں جس کے بعد اہلخانہ نے انہیں “گمشدہ” سمجھ کر پولیس سٹیشن میں رپورٹ درج کرانے کیلئے رجوع کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکسٹ بکس میں تاخیر اور غلطیاں ناقابل قبول،کسی قسم کا عذر قبول نہیں کیا جائیگا: وزیر تعلیم
بزرگ کا سوال اور معصومیت
حریم فاروق نے بتایا کہ وہ بچپن میں پھوپھو کے گھر جانا چاہتی تھیں اور ڈرائیور کے نہ لے جانے پر خود ہی گھرسے نکل پڑیں۔ راستے میں ایک بزرگ نے انہیں روکا اور پوچھا کہاں جا رہی ہو، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’پھوپھو کے گھر‘‘ اور معصومیت میں اپنی عمر آٹھ سال بتاتے ہوئے کہا کہ میں میٹرک میں ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل فون پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کون سا ادارہ وصول کرتا ہے؟
نوجوانوں کی مداخلت
اداکارہ کے مطابق جب وہ منزل کے قریب تھیں تو دو نوجوانوں نے انہیں دیکھا اور پوچھا کہ کیا والدین کو معلوم ہے؟ حریم نے نفی میں جواب دیا تو وہ نوجوان انہیں فوراً گھر واپس لے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا گردوں کے مریضوں کیلئے ڈائیلائسز کارڈ لانچ کرنے کا اعلان
والدین کی پریشانی
حریم نے بتایا کہ اسی دوران ان کے والدین انہیں تلاش کرتے کرتے پولیس سٹیشن پہنچ چکے تھے تاکہ گمشدگی کی رپورٹ درج کرائیں۔ گھر واپسی پر ان کے دادا نے پہلی بار ان کو ڈانٹ پلائی اور تھپڑ بھی لگایا اور آئندہ بغیر بتائے گھر سے نہ نکلنے کی سخت تاکید کی۔
یہ بھی پڑھیں: شہر قائد میں اگلے 3 روز درجۂ حرارت کتنا رہے گا ؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
یادگار سبق
اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہے اور انہوں نے اسی دن فیصلہ کیا تھا کہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کریں گی۔
سکول کے دنوں کا نک نیم
شو میں ایک اور دلچسپ انکشاف اس وقت سامنے آیا جب حریم نے بتایا کہ سکول کے دور میں ان کا نک نیم ’لالا‘ تھا۔ وہ لڑکوں کے ایک گروپ میں واحد لڑکی تھیں اس لیے سب انہیں احترام سے لالا کہتے تھے۔








