پاکستان میں آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں: وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تشویش
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یادیں دکھ کے آنسو آنکھوں میں اتار دیتی ہیں، دن تو کسی نہ کسی طرح گزر ہی جاتا ہے، یہ رات کیوں آتی ہے جو تاروں بھری نہیں یادوں بھری ہوتی ہے۔
جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے خطرات
روزنامہ جنگ کے مطابق ایک بیان میں وولکر ترک نے ترامیم سے پاکستانی عوام کی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مصباح الحق کو اہم ذمہ داری دیئے جانے کا امکان
آئینی ترامیم کے اثرات
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منظور کی گئیں آئینی ترامیم عدالتی آزادی اور ملک میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہیں، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی پر بھی شدید خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کتاب میلے میں 35 کتابیں، 1200 شاورمے اور 800 بریانی کی فروخت کے دعووں کی حقیقت کیا ہے؟
مشاورت کی کمی
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم بھی گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کیے بغیر منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا درجنوں بچوں پر مشتمل “لشکر” بنانے کا منصوبہ، جاپانی خاتون کو اپنا نطفہ بھیج دیا، تہلکہ خیز انکشاف
عدلیہ پر سیاسی مداخلت کے خطرات
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں سے عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامی کنٹرول کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فوجی احتساب پر اثرات
وولکر ترک نے کہا کہ وسیع پیمانے پر دیا جانے والا استثنیٰ مسلح افواج پر جوابدہی کے جمہوری کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔








