پاکستان میں آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں: وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تشویش
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا سندھ ہائی کورٹ کے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ دوبارہ منعقد کرانے کے حکم کا خیرمقدم
جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے خطرات
روزنامہ جنگ کے مطابق ایک بیان میں وولکر ترک نے ترامیم سے پاکستانی عوام کی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست میں ہر بات یا سوال کا جواب نہیں دینا ہوتا، بیرسٹر گوہر کی شیر افضل مروت کو تنبیہ
آئینی ترامیم کے اثرات
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منظور کی گئیں آئینی ترامیم عدالتی آزادی اور ملک میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہیں، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی پر بھی شدید خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: توڑ پھوڑ کا کیس: اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع
مشاورت کی کمی
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم بھی گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کیے بغیر منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی وزیر خارجہ کی پاکستان کے ذریعے امریکہ سے پیغامات کے تبادلے کی تصدیق، سیز فائر نہیں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، الجزیرہ کو انٹرویو
عدلیہ پر سیاسی مداخلت کے خطرات
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں سے عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامی کنٹرول کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فوجی احتساب پر اثرات
وولکر ترک نے کہا کہ وسیع پیمانے پر دیا جانے والا استثنیٰ مسلح افواج پر جوابدہی کے جمہوری کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔








