پاکستان میں آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں: وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تشویش
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 302 این جی اوز کی ریلیف سرگرمیاں جاری
جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے خطرات
روزنامہ جنگ کے مطابق ایک بیان میں وولکر ترک نے ترامیم سے پاکستانی عوام کی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے 10 کرکٹ اور 10 فٹ بال گراونڈز کی نیلامی روک دی
آئینی ترامیم کے اثرات
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منظور کی گئیں آئینی ترامیم عدالتی آزادی اور ملک میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہیں، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی پر بھی شدید خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی
مشاورت کی کمی
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم بھی گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کیے بغیر منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: تقریباً پونے 2 ارب روپے کے سونے کے ٹوائلٹ کی چوری، ملزم کو کیا سزا سنائی گئی؟
عدلیہ پر سیاسی مداخلت کے خطرات
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں سے عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامی کنٹرول کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فوجی احتساب پر اثرات
وولکر ترک نے کہا کہ وسیع پیمانے پر دیا جانے والا استثنیٰ مسلح افواج پر جوابدہی کے جمہوری کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔








