بھارت کے دورے کے دوران قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں کم آگاہی کا مشاہدہ
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 233
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری کے گھر لاکھوں روپے کی ڈکیتی، مقدمہ درج، ملزمان کیخلاف عملی کارروائی نہ ہوسکی
قائد اعظم کا جنم دن
ایک سو چودویں جنم دن کی دورۂ بھارت کے دوران ہم نے محسوس کیا کہ یہاں نوجوان نسل کو بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں بہت کم آگاہی حاصل ہے۔ بلکہ یہ قائد اعظم کی صورت سے آشنا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سفارت خانہ کے 3رکنی وفد کی اڈیالہ جیل آمد
نوجوان وکلاء کی دلچسپی
ہمیں اس حقیقت کا ادراک اس طرح ہوا کہ کچھ نوجوان وکلاء نے پاکستانی کرنسی دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ہمارے دوستوں نے ان کو پانچ سو اور ایک ہزار روپے والے نوٹ نکال کر انہیں دکھائے۔ نوٹ دیکھتے ہوئے ایک نوجوان نے قائد اعظم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ کون ہیں۔ جب ہم نے انہیں بتایا کہ یہ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہے تو سب نوجوانوں نے باری باری نوٹ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر دلچسپی کے ساتھ اس تصویر کو دیکھا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتحال، وزیراعلیٰ پنجاب نے 12 وزرا ءکی مختلف اضلاع میں ڈیوٹیاں لگادیں
کتاب کا تعارف
ہمارے دوست ظفر علی راجا نے سٹیج چھوڑنے سے قبل حضرت قائد اعظم پر لکھی ہوئی اپنی کتاب ”قائد اعظم اور خواتین“ پورے ہال کو لہرا کر دکھائی اور کانپور بار کی لائبریری میں رکھنے کے لیے تالیوں کی گونج میں صدر کانپور بارایسوسی ایشن کو پیش کرنے اعزاز حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی بریک پیڈز پاکستان کے ریلوے نظام کی ترقی میں مددگار مگر کیسے، تفصیلات سامنے آگئیں
شاعری کا سیشن
اس کے بعد پاکستانی وفد میں شامل دوسرے شاعر رکن سرفراز سید کا نام پکارا گیا۔ سرفراز سید نے پہلے تو یہ شعر پڑھ کر سامعین کا موڈ تبدیل کیا:
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
اور پھر اس شعر کے بعد اپنی مشہور نظم ”عدل آدم“ سنائی جس کا آغاز کچھ اس طرح ہوتا ہے:
چلو پھر ایسا کرتے ہیں، ذرا تفہیم کرتے ہیں
بنا عدل آدم، رزق ہم تقسیم کرتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: ایک ملاقات کا سوال ہے بابا
کتبے کی حوالگی
نظم ختم ہوئی تو تالیوں کی گونج میں اعلان کیا گیا کہ اب پاکستانی وفد کی جانب سے کانپور بار ایسوسی ایشن کو وہ یادگاری کتبہ پیش کیا جائے گا جو بطور خاص پاکستان سے لایا گیا ہے۔ یہ بھاری اور بڑا کتبہ ارشاد چوہدری کی مدد سے ہم نے سٹیج پر رکھے طویل میز پر رکھا۔ پھر ہم نو کے نو سب ارکان پاکستانی وفد نے اس کتبے کو مشترکہ طور پر کانپور بار کے صدر کی خدمت میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرینی صدرزیلنسکی کے چیف آف سٹاف مستعفی، کن الزامات کا سامنا تھا ؟ جانیے
ثقافتی پروگرام
کتبہ حوالگی کی تقریب کو بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلز والے باری باری سٹیج پر آ کر اس یادگار لمحے کو کیمرہ بند کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی اعلان کیا گیا کہ اب کھانے کے لیے وقفہ ہو گا جس کے فوراً بعد کانپور بار ایسوسی ایشن کی 114 دیں سالگرہ کی تقریبات کا آخری سیشن ہو گا جو کہ کلاسیکل رقص کے لیے مخصوص ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ادارے گڈ گو رننس کی تر ویج میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی کا ہانگ کانگ میں بین الاقوامی محتسب سربراہ اجلاس سے خطاب
کھانے کا اہتمام
کھانے کا اہتمام ایک قریبی کوٹھی کے لان میں کیا گیا تھا۔ لان میں بچھی لمبی میزوں پر کھانا سجانے کا اہتمام جاری تھا اس لیے دیپک مالوی ایڈووکیٹ نے ہمیں اور دیگر مہمانوں کو لان کے ایک کونے میں بچھی کرسیوں پر بٹھایا اور کہا کہ آپ گپ شپ لگائیں۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








