پیروی کرنے والی خاتون ہی قتل کر دی گئی، نہ رہا بانس اور نہ بجی بانسری، معاملہ ٹھپ، بڑے عہدوں پر کمزور تعینات کیے جائیں تو نتائج بھگتنے پڑتے ہیں

مصنف اور قسط کی معلومات

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 365

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر قوم کو مبارکباد

کیس کی تفصیلات

بعد میں چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری نے اس کیس پر سو موٹو لیا لیکن پیروی کرنے والی خاتون کو قتل کر دیا گیا۔ نہ رہا بانس اور نہ بجی بانسری۔ معاملہ ٹھپ ہو گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل کی بات نہ ماننے پر ڈی پی او ڈاکٹر عثمان کو اوکاڑہ سے ٹرانسفر کر دیا گیا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل کی بات نہ ماننے کا مطلب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی ناراضگی مول لینے کی بات بھی تھی۔ کمزور، میرٹ سے ہٹ کر اور نظم و ضبط پر کمپرومائز کرکے بڑے عہدوں پر کمزور اور جھولی چک تعینات کئے جائیں تو نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا نام نہاد اسرائیلی اقدام مسترد کر دیا

ڈاکٹر عثمان کی پوسٹنگ

کچھ دنوں بعد ڈاکٹر عثمان کی پوسٹنگ ایس پی کینٹ لاہور ہو گئی۔ شبر رضوی ہائی کورٹ کا جج بن گیا، اور اس نے جس قسم کا انصاف کیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یوں "حوا کی ایک بیٹی" بے گناہ قتل ہوئی اور دوسری عصمت دری کا شکار ہو کر گناہ کے بوجھ اٹھائے اس معاشرے کے بے حس قانون کی بھینٹ چڑھ کر گمنامی اور بدنامی کے اندھے گڑھے میں ڈوب گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی۔ میں تو پاکستان کے Justice system کو injustice system کہتا ہوں۔ شاید یہ نام درست بھی ہے اور میں ایسا کہنے میں حق بجانب بھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیپرا کا بجلی کی قیمتوں میں 48 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان،نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

چیف جسٹس کا نوٹس

چوبیس گھنٹے میں بنگلہ خالی کر دو؛ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، صاحب کا سرکاری بنگلہ ہائی کورٹ کی strength پر تھا۔ چیف جسٹس نے یہ بنگلہ خالی کرانے کا نوٹس جاری کر دیا۔ پرویز الٰہی کی حکومت اپنی مدت پوری کر چکی تھی۔ قانون کے مطابق صاحب بنگلہ 1 ماہ تک اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔ ان دنوں صاحب کی ساری فیملی راولپنڈی گئی ہوئی تھی۔ گھر پر چند ملازمین تھے۔

یہ بھی پڑھیں: میرے خط کے جواب میں روز نے لکھا ہم مل کر مشکلات کا مقابلہ کریں گے، آپ مجھے پسند کرتے ہیں تو میں ماں سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں

ہائی کورٹ کا عمل

ہائی کورٹ کا اسسٹنٹ رجسٹرار 2 سپاہیوں کے ہمراہ صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ مجھے گھر کے ملازم نے اطلاع دی اور میں بھی صاحب کے گھر پہنچا۔ منت ترلے کے باوجود اسسٹنٹ رجسٹرار کوئی لچک دینے کو تیار نہ تھا۔ کمروں کے تالے توڑے گئے۔ بڑی مشکل سے 2 گھنٹے کا ٹائم لیا۔ آغا ہمایوں (یہ ٹی ایم او نشتر ٹاؤن بڑا اچھا افسر اور میرے پرانا واقف کار تھا) اسے کہہ کر ٹی ایم اے کا ٹرک اور کچھ عملہ منگوایا۔ سامان ٹرک میں لوڈ کرایا۔ مشہود بھی آ گیا۔ یہ ٹیلی وژن چینلز کے لئے اس دن کی بڑی خبر بنتی، اگلے روز اخباروں کی ہیڈ لائن ہوتی اور صاحب کی نیک نامی کو داغدار کر دیتی لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس حملے میں 8 کلو تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کئے گئے، آئی جی اسلام آباد

بیگم صاحبہ کی موجودگی

بیگم صاحبہ بھی پہنچ گئیں اور وہ پنجاب آفیسرز کلب کی بالکونی سے اپنے گھر کا سامان بیدردی سے سڑک پر رکھتا دیکھتی رہیں۔ عدم برداشت کی انتہا تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے حصے کی بہتری اگر سارے ہی سرکاری ملازمین کی سوچ بن جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں معاشرے میں بڑی خوشگوار تبدیلی کا باعث ہو جائے

اخباری کوریج اور قومی سانحہ

چیف جج اور شبر دونوں ہی اپنا کینہ خوب دکھا رہے تھے۔ اللہ نے جتنی ہمت دی تھی میں نے اور مشہود نے اُس سے بڑھ کر صورت حال کا مقابلہ کیا۔ ہمیں عدالتی عملے نے سخت نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے۔ کوئی ہمارا کچھ نہ کر سکا۔ بہر حال، صاحب کا سامان اُن کے طفیل روڈ والے گھر پہنچاتے شام ڈھل گئی تھی۔ اگلے روز صاحب کا گھر خالی کرائے جانے کی خبر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی زینت بنتی مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ اُسی شام بی بی (بے نظیر بھٹو) کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ سارے میڈیا کی توجہ اُس قومی سانحے کی طرف ہو گئی۔

نوٹ

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...