انگریزوں کا دیا ہوا بہترین ٹوکن سسٹم بھی صحیح طرح سے استعمال نہیں ہو رہا، کسی بھی حادثے کی صورت میں سارا ملبہ غریب نچلے عملے پر ڈال دیا جاتا ہے

مصنف: محمد سعید جاوید

ریل حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح

قسط: 324
ہر روز گاڑیاں پٹریوں سے اتر کر اٹ جاتی ہیں۔ سگنل سسٹم کی ناکافی کارکردگی کی وجہ سے، گاڑیاں اکثر غلط پٹریوں پر چل جاتی ہیں اور پہلے سے موجود گاڑیوں سے ٹکرا جاتی ہیں۔

ٹوکن سسٹم کی ناکامی

دوسری طرف، انگریزوں کا دیا ہوا بہترین ٹوکن سسٹم بھی صحیح طور پر استعمال نہیں ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پہلی گاڑی کے اگلے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ہی دوسری گاڑی کو اسی لائن پر جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ بسا اوقات پہلی گاڑی راستے میں خراب ہو کر رک جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آنے والی تیز رفتار گاڑی اس سے ٹکرا جاتی ہے۔

حفاظتی اقدامات کی ضرورت

اگر حفاظتی اقدامات پر عملدآمد کیا جائے اور ریلوے کا متعلقہ عملہ اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح انجام دے، تو حادثات میں بڑی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ لیکن عموماً ہوتا یہ ہے کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں اعلیٰ افسران یا متعلقہ تکنیکی انجینئروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے، اگلے دن تمام ملبہ غریب ڈرائیوروں یا سگنل یا پوائنٹ مین پر ڈال کر انہیں بری الذمہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

ماضی کے خوفناک حادثات

پاکستان میں اب تک ہونے والے ریل گاڑیوں کے بیشتر حادثات میں، تخریب کاری اور آتش زدگی کے چند واقعات کو چھوڑ کر، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر متعلقہ عملہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرتا، تو ان ناگہانی حالات سے بچا جا سکتا تھا۔ میرے ذہن میں 1957ء میں اوکاڑہ کے قریب گیمبر میں ہوا حادثہ محفوظ ہے، جس میں تقریباً 300 لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔

لوک فنکاروں کی یادیں

اس حادثے کے بارے میں لوک فنکاروں نے گیت بنائے تھے جنہیں وہ گاؤں گاؤں جا کر سناتے تھے۔ ان کے بیان کردہ مناظر اتنے دلخراش تھے کہ وہاں موجود خواتین، جنہوں نے کبھی ریل سفر نہیں کیا، بھی آنکھیں بھر لیتی تھیں۔

ریلوے کی حالت

حادثات کے لحاظ سے، زیریں سندھ کا علاقہ خاص طور پر روہڑی ڈویژن سرفہرست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کی کچھ پٹریاں اور پل بہت بوسیدہ ہیں، جو تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے بے بس ہیں۔ کچھ علاقوں میں تو گاڑی کی رفتار خوف کی وجہ سے تیس یا چالیس کلومیٹر سے زیادہ نہیں بڑھائی جا سکتی، جبکہ دنیا بھر میں جدید مسافر گاڑیاں گھنٹے میں 300 کلومیٹر کی رفتار سے چل رہی ہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...