انسداد دہشتگردی عدالت کا شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا حکم
راولپنڈی میں انسداد دہشتگردی عدالت کی سماعت
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی جس دوران شوکت خانم کینسر ہسپتال کے وکلاء عدالت پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور ویتنام کے تعلقات پر صدر شی جن پنگ کی خصوصی کہانی
پراسیکیوشن کی جانب سے الزامات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان کے ذاتی اکاؤنٹ فریز کرنے کیلئے ان کا شناختی کارڈ نمبر سٹیٹ بینک کو بھیجا تھا، سٹیٹ بینک نے علیمہ خان کے سی این آئی سی پر درج سارے اکاؤنٹ بند کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے والے پی ٹی آئی رہنماؤں اور فیملی ممبران کو پولیس نے تحویل میں لے لیا
شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹس کی حیثیت
انہوں نے بتایا کہ شوکت خانم ہسپتال کے اکاؤنٹ فریز کرنے کی کوئی تحریری درخواست دائر نہیں کی گئی، پراسیکیوشن کو شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کے اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرور شاہدہ ٹرسٹ کے وفد کی پاکستانی ہائی کمشنر لندن سے ملاقات، کارڈیک سینٹر اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ گوجرانوالہ کے منصوبے پر بریفنگ
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد نمل یونیورسٹی اور شوکت خانم کے اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد دہانی
خیال رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کے بینک اکاؤنٹس فریز کرنے کا حکم دیا تھا۔








