میئر کراچی کا سارے اداروں پر قبضہ، پھر بھی بچے گٹر میں گر رہے ہیں: جماعت اسلامی
حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ میئر کراچی نے سارے ادارے اپنے قبضے میں کر رکھے ہیں، کوئی اس شہر کا پرسان حال نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان نایاب معدنیات کا معاہدہ طے پا گیا
کرپشن اور شہری تذلیل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت میں کرپشن بڑا کاروبار بن چکا ہے، ان کی سرپرستی کون کررہا ہے سب کو پتہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیگم اور ساس کی دھمکیوں سے تنگ آکر انجینئر نے اپنی جان لے لی
بی آر ٹی پروجیکٹ کی مخالفت
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مطالبہ ہے بی آر ٹی پروجیکٹ ختم کیا جائے، یونیورسٹی روڈ کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فرضی ڈاکومنٹس پر گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کیا جا رہا ہے، اور جماعت اسلامی اس مظالم کے خلاف مزاحمت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے سابق ولی عہد رضا پہلوی کا پیغام بھی آ گیا
زمینوں پر قبضے کے خلاف جدوجہد
ان کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، حکومت سسٹم چلانے والوں کو لگام دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر جگہ قبضہ ہوتا ہے، کسانوں، ہاریوں کی زمین پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوچکا، وفاقی وزیر خزانہ
کراچی کے حالات اور حکومت کی ذمہ داری
حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم پر الزام لگایا کہ وہ عوام کو بے وقوف بناتی ہے اور قبضہ کرانے میں معاون بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی ذمے داری حکومت پر ہے اور کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کینیڈا کا ویزا اپلائی کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم خبر
چھوٹے کاشتکاروں کی مشکلات
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کی زمین پر بھی قبضہ کیا جاتا ہے، اور یہ کہ کراچی کو ہزار ارب روپے ملنے چاہئیں تھے جو کہ سابقہ حکومت کے دور میں ختم کر دی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
منعم ظفر کی تشویش
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ بچے گٹر میں گر رہے ہیں اور انفراسٹرکچر تباہ حال ہے۔ ہم اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں کہ ڈوبنے والے بچے کی لاش 12 گھنٹے بعد بھی تلاش نہیں کی جا سکی۔
مقامی حکومت کی ذمہ داری
منعم ظفر نے بتایا کہ یوسی چیئرمین نے اس گڑھے کے حوالے سے 29 اکتوبر کو شکایت درج کرائی، اور کہا کہ تمام ٹاؤنز چیئرمینوں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔








