میئر کراچی کا سارے اداروں پر قبضہ، پھر بھی بچے گٹر میں گر رہے ہیں: جماعت اسلامی
حافظ نعیم الرحمان کی پریس کانفرنس
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ میئر کراچی نے سارے ادارے اپنے قبضے میں کر رکھے ہیں، کوئی اس شہر کا پرسان حال نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سندھ طاس معاہدے کو بچانے کے لیے امریکہ اور ورلڈ بینک کچھ کر سکتے ہیں؟
کرپشن اور شہری تذلیل
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت میں کرپشن بڑا کاروبار بن چکا ہے، ان کی سرپرستی کون کررہا ہے سب کو پتہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ گر کر تباہ
بی آر ٹی پروجیکٹ کی مخالفت
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ مطالبہ ہے بی آر ٹی پروجیکٹ ختم کیا جائے، یونیورسٹی روڈ کو بحال کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فرضی ڈاکومنٹس پر گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کیا جا رہا ہے، اور جماعت اسلامی اس مظالم کے خلاف مزاحمت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایوب خاں، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے صدارتی ادوار میں اقتصادی لحاظ اور فارن ریلیشنز میں پاکستان جمہوری ادوار کی نسبت زیادہ مستحکم اور آگے تھا
زمینوں پر قبضے کے خلاف جدوجہد
ان کا کہنا تھا کہ زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، حکومت سسٹم چلانے والوں کو لگام دے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر جگہ قبضہ ہوتا ہے، کسانوں، ہاریوں کی زمین پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کر دیں
کراچی کے حالات اور حکومت کی ذمہ داری
حافظ نعیم الرحمان نے ایم کیو ایم پر الزام لگایا کہ وہ عوام کو بے وقوف بناتی ہے اور قبضہ کرانے میں معاون بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی ذمے داری حکومت پر ہے اور کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کا کے پی سے واپس کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں بلوچستان کو دینے کا اعلان
چھوٹے کاشتکاروں کی مشکلات
انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کی زمین پر بھی قبضہ کیا جاتا ہے، اور یہ کہ کراچی کو ہزار ارب روپے ملنے چاہئیں تھے جو کہ سابقہ حکومت کے دور میں ختم کر دی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کرلیاگیا۔
منعم ظفر کی تشویش
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ بچے گٹر میں گر رہے ہیں اور انفراسٹرکچر تباہ حال ہے۔ ہم اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں کہ ڈوبنے والے بچے کی لاش 12 گھنٹے بعد بھی تلاش نہیں کی جا سکی۔
مقامی حکومت کی ذمہ داری
منعم ظفر نے بتایا کہ یوسی چیئرمین نے اس گڑھے کے حوالے سے 29 اکتوبر کو شکایت درج کرائی، اور کہا کہ تمام ٹاؤنز چیئرمینوں کو کردار ادا کرنا چاہیے۔








